ڈاکٹر مرسی کے خلاف جاسوسی کے الزام میں مقدمہ چلے گا

غزہ کی حکمراں حماس اور لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ سے تعلقات کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر میں پراسیکیوٹرز نے برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی سمیت پینتیس افراد کے خلاف جاسوسی کے الزامات میں ایک نیا مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔ان مدعاعلیہان میں اخوان المسلمون کے مرشد عام محمد بدیع اور ان کے دو نائِبین بھی شامل ہیں۔

پراسکیوٹر نے ڈاکٹر محمد مرسی کے غزہ کی پٹی کی حکمران فلسطینی جماعت حماس کے ساتھ 25 جنوری 2011ء کو ایک جیل کو توڑنے کے واقعہ کے دوران مبینہ روابط وتعلقات کی تحقیقات کی ہے۔سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف عوامی احتجاجی مظاہروں کے دوران ڈاکٹر محمد مرسی اور اسلامی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے دوسرے قیدی فرار ہو گئے تھے۔

پراسیکیوٹر نے بدھ کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ اخوان المسلمون نے مصر میں تشدد اور دہشت گردی کا ارتکاب کیا تھا اور فلسطینی تنظیم حماس اور لبنانی تنظیم حزب اللہ کے ساتھ شراکت کے ذریعے دہشت گردی کی منصوبہ بندی کی تھی۔

اس مقدمے میں ڈاکٹر مرسی کے ساتھ بعض شریک ملزموں پر پاسداران انقلاب ایران کو ریاستی راز فراہم کرنے پر مورد الزام ٹھہرایا گیا ہے۔ان میں ان کے سیکنڈ ان کمان اعصام حداد بھی شامل ہیں۔ دوسرے مدعا علیہان میں اخوان المسلمون کے بعض مقامی قائدین اور برطرف حکومت کے معاونین شامل ہیں۔

استغاثہ نے اخوان المسلمون پر جزیرہ نما سیناء میں ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد فوجیوں اور پولیس اہلکاروں پر حملوں کا بھی الزام عاید کیا ہے لیکن ان میں سے بہت سے حملوں کی القاعدہ سے وابستہ گروپوں نے ذمے داری قبول کی تھی اور ان کا اخوان المسلمون سے براہ راست کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں تھا۔

لیکن مصری پراسیکیوٹرز کا بالاصرار کہنا ہے کہ سیناء میں سکیورٹی فورسز پر حملے برطرف صدر محمد مرسی کی حمایت میں اور ان کی بحالی کے لیے کیے گئے تھے تاکہ اخوان المسلمون کی ایک مرتبہ پھر ملک میں گرفت قائم ہو سکے۔

ڈاکٹر محمد مرسی اور اخوان المسلمون کے دوسرے قائدین کے خلاف اس نئے مقدمے میں اگر انھیں عدالت قصوروار قرار دے دیتی ہے تو پھر انھیں سزائے موت کا سامنا ہوسکتا ہے۔

اس سے پہلے ڈاکٹر محمد مرسی، اخوان المسلمون کے مرشد عام محمد بدیع اور دوسرے قائدین کے خلاف مظاہرین کی ہلاکتوں کے الزامات میں دو الگ الگ مقدمات چلائے جارہے ہیں۔ ان کے خلاف مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت کے جج گذشتہ ہفتے واک آؤٹ کرگئے تھے اور انھوں نے ''ضمیر کی وجوہ'' کی بنا پر مقدمہ سننے سے انکار کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں