.

"سازشی عناصر انٹرنیٹ کے ذریعے سعودی عرب میں مداخلت کے مرتکب ہیں"

خواتین ڈرائیونگ مہم میں پانچ لاکھ مصری، دو لاکھ ایرانی سرگرم رہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ غیرملکی سازشی عناصر مملکت میں گڑ بڑ پھیلانے کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال کر رہے ہیں۔ سعودی عرب کو بدنام کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر ہونے والی تمام آن لائن مہمات میں غیرملکی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ ان سازشی عناصر کی بیشتر تعداد ایران، امریکا اور مصر میں موجود ہے جو مختلف مہمات کے ذریعے سعودی عرب کے سماج کو منفی انداز میں پیش کر رہے ہیں۔

سعودی عرب کے خلاف ہونے والی آن لائن مہمات کے منفی اثرات پر "العربیہ" سے گفتگو کرتے ہوئے سعودی تجزیہ نگار ڈاکٹرعبداللہ الطائر کا کہنا تھا کہ 26 اکتوبر کو سوشل میڈیا پر سعودی عرب میں خواتین کی ڈرائیونگ کی حمایت میں ایک مہم چلائی گئی۔ اس مہم میں 5 لاکھ مصری، ایک لاکھ 70 ہزار ایرانی اور 50 ہزار امریکیوں نے حصہ لیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ بیرون ملک سے آن لائن مہمات میں حصہ لینے والے "فیس بک" اور "ٹیوٹر" دونوں کا استعمال کرتے ہیں۔ ٹیوٹر پر ٹویٹس کرنے والوں کی بھاری اکثریت سعودی معاشرے کے مثبت پہلوؤں کو بھی منفی انداز میں پیش کرتی ہے۔

اسی موضوع پر بات کرتے ہوئے سماجی میڈیا کے ماہراور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استاد ڈاکٹر سعود کاتب نے کہا کہ سعودی عرب کے خلاف سرگرم آن لائن فورسز اپنی مہمات میں غیرمعمولی منفی اثرات ڈال رہی ہیں۔ سعودی عرب کے خلاف انٹرنیٹ پر باقاعدہ پوری فوجیں سرگرم ہیں جو سعودی عرب کے اندرونی مسائل پر توجہ مرکوز کر کے ملک میں دخل اندازی کی سازش کر رہی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹرسعود کاتب کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا فرینڈز اور فالورز کی غیر معمولی تعداد رکھنے والے عناصر زیادہ منفی اثرات ڈال رہے ہیں۔ جس شخص کے جتنے زیادہ سماجی رابطے، فیس بک پر دوست یا ٹیوٹر پر فالورز ہوں گے اس کی کوئی بھی منفی بات اتنی ہی دور تک پھیلتی چلی جائے گی۔