فرانسو اولاند: شامی بحران کے حل کے لیے سعودی کوششوں کی حمایت

شامی تنازعے کے حل کے لیے عبوری مرحلے کے تحت انتقال اقتدار پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے شامی بحران کے حل کے لیے سعودی عرب کی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

فرانسو اولاند نے سعودی دارالحکومت ریاض میں اتوار کو نیوزکانفرنس کے دوران کہا کہ ''ہم شامی اتحاد کی حمایت کرتے ہیں اور اس بات سے آگاہ ہیں کہ سعودی عرب نے شام میں انتہا پسندوں سے جنگ میں کیا کردار ادا کیا ہے''۔

انھوں نے شامی بحران کے حل کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے کہا کہ عبوری مرحلے کے تحت انتقال اقتدار کے ذریعے ہی اس تنازعے کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔فرانسیسی صدر نے مصر میں انتقال اقتدار کے لیے سیاسی نقشہ راہ کی حمایت کا بھی اظہار کیا۔

ایران کے جوہری تنازعے کے حل کے لیے گذشتہ ماہ چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ طے پائے عبوری سمجھوتے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ فرانس ایران کی جانب سے اس سمجھوتے کی پاسداری کی صورت ہی میں اس پر عاید پابندیاں ہٹائے گا۔

قبل ازیں فرانسیسی صدر نے سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز سے ملاقات کی۔شاہ عبداللہ نے ان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شامی صدر بشارالاسد نے اسلامی انتہا پسند کو تنازعے میں درآنے کا موقع دے کر اپنے ملک کو تباہ کردیا ہے۔

ایک فرانسیسی عہدے دار نے اس ملاقات کے حوالے سے اے ایف پی کو بتایا کہ شاہ عبداللہ نے کہا کہ دونوں ممالک کا علاقائی امور کے حوالے سے موقف یکساں ہے۔انھوں نے خطے کے بحرانوں کے حوالے سے فرانس کے دلیرانہ موقف کی حمایت کی۔

فرانس اور سعودی عرب دونوں نے بشارالاسد کو اقتدار سے نکال باہر کرنے کے لیے مسلح جدوجہد کرنے والے باغی جنگجوؤں کی حمایت کا اظہار کیا ہے جبکہ امریکا نے ابھی تک شامی باغیوں کی کھل کر حمایت نہیں کی ہے۔

فرانسو اولاند نے برطانیہ سے شائع ہونے والے عرب روزنامے الحیات کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ ''سعودی عرب فرانس کے نمایاں شراکت داروں میں سے ایک ہے''۔ مئی 2012ء میں صدرفرانس منتخب ہونے کے بعد سعودی عرب کا ان کا یہ دوسرا دورہ ہے۔

وہ ریاض میں قیام کے دوران لبنان کے سابق وزیراعظم سعد حریری اور شامی حزب اختلاف کے قومی اتحاد کے سربراہ احمد جربا سے بھی ملاقات کرنے والے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں