.

دبئی میں ریکارڈ آتش بازی کے ساتھ نئے سال کا خیرمقدم

طویل ٹاور برج خلیفہ سے انسانی ساختہ جزیروں تک 4 لاکھ پٹاخے چھوڑے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دبئی میں نئے سال کے آغاز کے موقع پر ریکارڈ آتش بازی کی گئی ہے اور جونہی 31 دسمبر کی رات مقامی وقت کے مطابق بارہ بجے تو پٹاخوں اور کریکروں کے دھماکوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

دبئی شہر اور اس کے آس پاس ایک سو کلومیٹر کے علاقے میں سال 2014ء کی آمد کے موقع پر چار لاکھ سے زیادہ پٹاخے چھوڑے گئے ہیں۔اس سے دنیا کے سب سے طویل ٹاور برج خلیفہ سے لے کر انسانی ساختہ جزیروں تک کا تمام علاقہ جگمگا اٹھا۔

اماراتی حکام کو توقع ہے کہ وہ اس ریکارڈ آتش بازی سے گینز بُک آف ورلڈ ریکارڈ میں جگہ پالیں گے۔اس سے پہلے یہ ریکارڈ کویت کے پاس ہے جہاں 2011ء میں 77282 پٹاخے چھوڑے گئے تھے۔آتش بازی کا سب سے نمایاں مظاہرہ پرتعیش اٹلانٹس ہوٹل اور کھجور کی شکل کے تین جزیروں میں سے ایک جمائرہ میں کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ اس وقت دبئی کو دنیا کے سب سے طویل ٹاور ،سب سے بڑے انسانی ساختہ جزیرے اور مصروف ترین عالمی ہوائی اڈوں میں سے ایک کا مالک ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

گذشتہ چند برسوں سے دبئی کی بھی آسٹریلیا کے شہر سڈنی کی طرح نئے سال کے آغاز کے موقع پر آتش بازی اور دیگر تقریبات کے حوالے سے ایک پہنچان بنتی جارہی ہے،خاص طور پر 2010ء میں 828 میٹر (2716 فٹ) طویل برج خلیفہ ٹاور کے افتتاح کے بعد سے یہاں رنگا رنگ تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے اور دنیا بھر سے شوبز اور دوسرے شعبوں کی سرکردہ شخصیات ان میں شرکت کرتی ہیں۔

دبئی فضائی ٹرانسپورٹ کا ایک اہم مرکز ہونے کے علاوہ ایک اہم عالمی تجارتی گذرگاہ اور تجارتی مرکز بن چکا ہے اور اس نے نومبر ہی میں 2020ء میں ہونے والی عالمی تجارتی نمائش کی میزبانی کا حق بھی حاصل کر لیا تھا۔اس کے مقابلے میں برازیل ،روس اور ترکی کے شہروں کو میزبانی کے حصول کی دوڑ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

دبئی کو قدامت پسند خطے کا جدید ترین شہر قراردیا جاتا ہے۔اس شہر میں دنیا کے بڑے کاروباری ،تجارتی ،صنعتی،سائنسی اور ٹیکنیکل اداروں کے دفاتر/ہیڈکوارٹرز قائم ہیں اور یہاں دنیا کے قریباً دوسو ممالک کے باشندے مقیم ہیں۔