مرسی کی حمایت پرمراکش کی خاتون سوشل ورکر کوعدالت کا سامنا
مصری سفیر کو دھمکی آمیز فون کرنے پر خدیجہ کے خلاف مقدمہ
مصر کے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی فوج کے ہاتھوں معزولی کے خلاف سراپا احتجاج مراکش کی ایک خاتون سماجی رہ نما کو بھی عدلت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پچیس سالہ خدیجہ منصوری نے دو ہفتے قبل رباط میں متعین مصری سفیر کو ٹیلیفون کرکے براہ راست دھمکی دی تھی اور فوری طور پر ملک چھوڑنے کا مطالبہ کیا تھا۔
خدیجہ منصوری کے وکیل نے آج اتوار کے روز بتایا کہ مراکش کی ایک عدالت نے اس کی مؤکلہ کو 12 فروری کو پیش ہونے اور مصری سفیرکو دھمکی آمیز فون کرنے کی وضاحت کا حکم دیا ہے۔
خاتون سماجی کارکن کے وکیل توفیق مصیف نے بتایا کہ مراکش کی عدالت میں خدیجہ کے خلاف مقدمہ مصری سفیر نے درج کرایا ہے۔ انہوں نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ حکمراں اسلام پسند جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ کی رکن نے فون کرکے دھمکی دی اور ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی پر مجھے ناپسندیدہ سفیر قرار دے ملک چھوڑنے کا کہا۔
توفیق نے بتایا کہ اس کی موکلہ نے 31 دسمبر کومصری سفارت خانے فون کیا تھا۔ اس کی براہ راست مصری سفیر سے بات نہیں ہوئی تاہم ٹیلیفون اٹھانے والے شخص کے ساتھ گفتگو میں انہوں نے مصر میں اخوان المسلمون کے کارکنوں کے خلاف فوجی کریک ڈاؤن کی شدید مذمت کی تھی اور ساتھ ہی کہا تھا کہ فوجی حکومت کے نامزد کردہ سفراء غیرا ٓئینی ہیں۔ مراکش میں متعین مصری سفیر کو بھی واپس چلے جانا چاہیے۔
ایک سوال کے جواب میں وکیل نے بتایا کہ مقدمہ درج ہونے کے بعد استغاثہ حکام نے خدیجہ سے اس کے گھر میں پوچھ تاچھ کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی شہری کو دھمکی سے کم کچھ بھی کہنے کی آزادی ہونی چاہیے۔ خیال رہے کہ مصرمیں اخوان المسلمون کی حکومت کی برطرفی کے بعد مراکش کی اسلام پسند جماعت نے بھی خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔