.

سعودی عرب:منشیات کی اسمگلنگ کے جُرم میں دو پاکستانیوں کے سرقلم

ایک مجرم نے پیٹ میں ہیروئن بھرکر سعودی عرب لے جانے کی کوشش کی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں منشیات کی اسمگلنگ کے جرم میں دو پاکستانیوں کے سرقلم کردیے گئے ہیں۔

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق ساحلی شہر جدہ میں ایک پاکستانی شہری ابرارحسین نذرحسین کا سرقلم کیا گیا ہے۔اس کو ہیروئن اسمگل کرنے کے جرم میں قصوروار قرار دے کر سزائے موت سنائی گئی تھی۔مجرم نے اپنے معدے میں ہیروئن چھپا کر سعودی عرب لے جانے کی کوشش کی تھی۔

ایس پی اے کے مطابق ایک اور پاکستانی زاہد خان برکات کا مشرقی صوبے قطیف میں سرقلم کیا گیا ہے۔اس کو بھی منشیات کی اسمگلنگ کے جرم میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔نئے سال کے آغاز میں یہ پہلا موقع ہے کہ مجرموں کے سرقلم کیے گئے تھے۔

سال 2013ء کے دوران سعودی عرب میں اٹھہتر افراد کو مختلف جرائم میں قصوروار قرار دے کر موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا۔2012ء میں سعودی مملکت میں چھہتر افراد کے سرقلم کیے گئے تھے۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اس سال 79 افراد کے سرقلم کیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں سخت اسلامی سزائیں نافذ ہیں اور قتل ،منشیات کی اسمگلنگ، بدکاری اور مسلح ڈکیتی جیسے جرائم میں قصور وار دیے جانے والے مجرموں کو سزائے موت دی جاتی ہے اور بالعموم مجمع عام ان مجرموں کے سرقلم کیے جاتے ہیں۔