.

شامی پناہ گزینوں نے الجزائر اور مراکش کو ایک نئے بحران میں ڈال دیا

دونوں ملک پناہ گزینوں کو بوجھ سمجھنے لگے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شمالی افریقا کے دو بڑے عرب ممالک مراکش اور الجزائر کے درمیان سنہ 1994ء سے بری سرحدیں بند ہیں لیکن حال ہی میں بڑی تعداد میں دونوں ملکوں کی سرحد پر پہنچنے والے سیکڑوں شامی پناہ گزینوں نے رباط اور الجزائر کو ایک نئی مشکل میں ڈال دیا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر سیکڑوں شامی پھنسے ہوئے ہیں جو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا چاہتے ہیں مگرمراکش اور الجزائر کی باہمی سفارتی کشمکش کے باعث وہ وہاں پھنس کر رہ گئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مراکش نے الجزائرکی جانب سے شامی پناہ گزینوں کا مسئلہ حل کرنے میں سستی کا مظاہرہ کرنے پر پڑوسی برادرملک سے سخت احتجاج بھی کیا ہے۔ الجزائری سفیر کو رباط کے دفتر خارجہ میں طلب کر کے شامی پناہ گزینوں کو مراکش میں دھکیلنے پر سخت احتجاج کیا گیا۔ اس کے جواب میں الجزائری وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ مراکش کا واویلا بلا جواز ہے۔ شامی پناہ گزین الجزائرمیں نہیں بلکہ مراکش ہی کی سر زمین پرموجود ہیں جہاں سے انہیں ہمارے ملک میں دھکیلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

گذشتہ روز دونوں ملکوں کے درمیان اس وقت سخت تناؤ دیکھا گیا جب دونوں کی وزارت خارجہ نے ایک دوسرے پر شامی پناہ گزینوں کو سرحد پار دھکیلنے کا الزام عائد کیا۔ مراکش حکومت زیادہ برہم دکھائی دی کیونکہ اس نے الجزائر کے سفیر کو طلب کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

قبل ازیں مراکشی حکومت کی جانب سے جاری ایک بیان میں بھی الزام عائد کیا گیا تھا کہ پڑوسی ملک الجزائر اپنی سرزمین پرموجود شامی پناہ گزینوں کومراکش میں دھکیل رہا ہے۔ اس طرح کی کئی کارروائیاں ہو چکی ہیں۔ الجزائر ماضی میں افریقا کے جنوبی صحارا کے متاثرین کو بھی مملکت کی مشرقی سرحدوں سے مراکش میں دھکیلتا رہا ہے۔

پچھلے جمعہ کو الجزائری وزارت خارجہ کے ترجمان عمار بلانے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شامی پناہ گزینوں کو مراکش میں بھجوانے کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ شام سے آئے پناہ گزین مراکش ہی میں موجود ہیں جہاں سے وہ الجزائرمیں دراندازی کرتے ہیں۔

یہ خبریں بھی آئی ہیں کی دونوں ملکوں کی بارڈر پولیس شامی پناہ گزینوں کو روکنے کی کوششیں کر رہی ہے۔ حال ہی میں مراکش سے الجزائر داخل ہونے کی کوشش کرنے والے سیکڑوں شامی باشندوں کو الجزائر کی بارڈر پولیس نے سرحد عبور کرنے سے روک لیا تھا۔
سرحدپرتعینات ایک فوجی افسر کرنل محمد بوعلاق کا کہنا تھا کہ مراکشی حکام نے شامی پناہ گزینوں کی بڑی تعداد کو ہمارے ملک میں دھکیلنے کی کوشش کی تھی لیکن ہم نے پناہ گزینوں کو روک لیا۔

خیال رہے کہ شام میں حکومت کے خلاف عوامی بغاوت کی تین سالہ تحریک کے دوران لاکھوں شامی شہری بیرون ملک ھجرت پر مجبور ہوئے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے امدادی اداروں کے مطابق الجزائر پہنچنے والے شامیوں کی تعداد 12 ہزار سے زیادہ ہے جبکہ 2500 شامی مراکش میں پناہ حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔