سعودی عرب: ٹی وی پروگرام کے پیش کار، مالک کو 12 سال قید

ملزم نے القاعدہ کو سعودی عرب کی پیداوار قرار دیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی ایک فوج داری عدالت نے معاشرے میں فتنہ وفساد پھیلانے کی پاداش میں ایک نجی ٹیلی ویژن چینل کے مالک اور ایک ٹاک شو کے پیش کار کو بارہ سال قید کی اور بیس سال تک بیرون ملک سفر پر پابندی کی سزا سنائی ہے۔ ملزم پر الزام ہے کہ وہ اپنے ٹی وی پروگرام کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس نے متعدد مرتبہ اپنے پروگرام میں شدت پسند تنظیم القاعدہ کو "سعودی عرب کی پیداوار" قرار دیا تھا۔ اس کےعلاوہ ملزم نے عرب بہاریہ کی کھل کر حمایت کرتے ہوئے سعودی حکومت کی پالیسی کی شدید مذمت کی بھی کی تھی۔

اس کا کہنا تھا کہ عرب بہار کے ذریعے عوام کے غصب شدہ حقوق انہیں فراہم کیے گئے ہیں۔ جن ملکوں میں عرب بہاریہ نہیں آئی وہاں پراب بھی عوام کے بنیادی اور جمہوری حقوق حکومت کے ہاتھوں دبائے گئے ہیں۔ ان میں سعودی عرب بھی شامل ہے۔ وہ اپنے ٹی وی پروگرام کے ذریعے لوگوں کے حقوق کی آواز بلند کر رہا ہے۔ ملزم کے نزدیک سعودی عرب کو ایک مخصوص ٹولے نے یرغمال بنا رکھا ہے جہاں عوام کے بنیادی حقوق کا کوئی تصور نہیں ہے۔

مقدمہ کی کارروائی کے دوران پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم معاشرے میں فتنہ وفساد پھیلانے اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ اس نے سعودی عرب کے موجودہ نظام حکومت کو "ظالمانہ" قرار دیتے ہوئے کہا ہے حکومت نے شہریوں کے بنیادی حقوق غصب کر رکھے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں