.

احمدی نژاد نے لاریجانی خاندان کو پھنسانے کے لیے فلم بنوائی

ایران کے سابق پراسیکیوٹر جنرل کا اعترافی بیان میں انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق پراسیکیوٹر جنرل سعید مرتضوی نے انکشاف کیا ہے کہ سابق صدر محمود احمدی نژاد نے اُنہیں جوڈیشل کونسل کے چیئرمین صادق لاریجانی، اسپیکر پارلیمنٹ علی لاریجانی اور ان کے بھائی فاضل لاریجانی کو کرپشن کے ایک جعلی اسکینڈل میں پھنسانے کے لیے ایک ویڈیو فوٹیج تیار کرنے کا حکم دیا تھا۔

سابق اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ وہ اس کام کے لیے تیار نہیں تھے لیکن انہیں صدر مُملکت کی جانب سے سخت دباؤ کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد انہیں ایک ویڈیو ریکارڈ کرنا پڑی تھی۔

ایرانی اپوزیشن کے مقرب نیوز ویب پورٹل "جرس" کی رپورٹ کے مطابق سعید مرتضوی کی تیار کردہ فلم پارلیمنٹ کے اجلاس میں چلائی گئی۔ اس میں فاضل لاریجانی کا ایک بیان ریکارڈ کیا گیا تھا۔ جس میں اس نے اقتصادی مراعات کے بدلے میں سعید مرتضوی کو نیشنل انشورینس فاؤنڈیشن کے عہدے پر برقرار رکھنے کے لیے اپنے دونوں بھائیوں کو راضی کرنے اور ان کی جانب سے کوئی رکاوٹ نہ آنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

سعید مرتضوی کا کہنا ہے کہ اس نے صدر سے کہا کہ ایسا کرنا اسلام کے اخلاقی اصولوں اور قومی مفادات کے خلاف ہو گا، لیکن احمدی نژاد اپنے موقف پر ڈٹے رہے کیونکہ وہ لاریجانی خاندان کو بدنام کرنا چاہتے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ جب فلم تیاری ہوگئی تو میں نے اسے پارلیمنٹ کے اعلانیہ اجلاس میں پیش کرنے سے معذرت کی لیکن یہاں بھی صدر نژاد اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ انہوں نے ہر صورت میں لاریجانی خاندان کو بدنام کرنے کا عزم کررکھا تھا۔ اجلاس کے دوران جب ایک وزیر نے سوال اٹھایا کہ سعید مرتضوی کو سوشل انشورینس فاؤنڈیشن کے چیئرمین کے عہدے پر مسلسل کیوں رکھا جا رہا ہے۔

اس پر انہوں نے وہ فلم نکال کے دکھائی جس میں فاضل لاریجانی سعید مرتضوی کو یہ پیش کش کر رہے ہیں کہ اگر وہ ارب پتی بابک زنجانی کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے انہیں اقتصادی مراعات دلوا دیتے ہیں تو وہ انہیں عہدے پر فائز رکھنے کے لیے اپنے بھائیوں سے سفارش کریں گے۔ بعد ازاں بابک زنجانی کو کرپشن کے ایک اسکینڈل میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔