.

امریکی انسانی حقوق رپورٹ : خلاف ورزیوں میں شام سب سے آگے

مصر، یوکرائن اور بنگلہ دیش میں ہونے والی ہلاکتوں کی بھی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی سالانہ ہیومن رائٹس رپورٹ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور معصوم شہریوں کو ہلاک کرنے میں سنہ دو ہزار تیرہ کے دوران شام اور اس بشار رجیم کو سب سے آگے قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کا سنگین ترین واقعہ دمشق کے نواح میں 21 اگست کو کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا ہوا جس میں 1400 شہریوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔ امریکا نے تین برسوں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی سخت مذمت کی ہے ۔

کیمیائی ہتھیاروں کے باعث شامی شہریوں کی ہلاکت کا یہ سانحہ شامی رجیم کے مظالم کے طور پر سامنے آیا۔ جبکہ معصوم شہریوں کا نشانہ بنانے کیلیے شہروں اور قصبات میں شبانہ روز بمباری، سکڈ میزائلوں اور بیرل بموں کا استعمال بھی رجیم کی طرف سے جاری رہی۔

انسانی حقوق سے متعلق امریکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دمشق کے نواح میں غوطہ کے مقام پر بشار رجیم کی طرف سے استعمال کی گئی سیرین گیس مجموعی طور پر 1429 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 426 بچے بھی شامل تھے۔ اس سانحے کو تین سالہ خانہ جنگی کے ہولناک ترین واقعات میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔

امریکا نے شامی سکیورٹی فورسز سمیت دنیا بھر میں جمہوریت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کا بڑھتے ہوئے استعمال کی مذمت کی گئی ہے۔ رپورٹ میں ان کمزور ریاستوں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جو نئی ، یا کمزور ہیں اور عوام کیخلاف طاقت استعمال کرتی ہیں یا عرب بہاریہ کے بعد کریک ڈاون کیا جارہا ہے۔

رپورٹ میں مصر کو بھی انہی بنیادوں پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے کہ مصری فوج نے منتخب حکومت کو برطرف کیا اور مظاہرین کے خلاف طاقت کا غیر معمولی استعمال کیا، جس کے نتیجے میں ہلاکتوں اور تششد کے واقعات پیش آئے۔

رپورٹ میں یوکرائن میں پارلیمانی انتخابات کے عالمی انتخابی معیار کے مطابق نہ ہونے پر بھی تنقید کی گئی ہے ، نیز یوکرائن میں مظاہرین پر سکیورٹی فورسز کے تشدد کی مذمت کی گئی ہے۔ اس طرح بنگلہ دیش میں ہلاکتوں کی مذمت کی گئی ہے۔