.

یانوکوویچ کا فوج کی مدد کے بغیر جدوجہد جاری رکھنےکا عزم

روسی صدر ولادی میر پوتین کے یوکرینی بحران پر نہ بولنے پر اظہار حیرت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یوکرین کے معزول صدر وکٹر یانوکوویچ نے ملک کے بہتر مستقبل کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ اس مقصد کے لیے فوج کی مدد طلب نہیں کریں گے اور ان قوتوں کے خلاف لڑتے رہیں گے جو دہشت اور تشدد کے ذریعے یوکرین کو اپنے قابو میں لانے کے لیے کوشاں ہیں۔

وہ دارالحکومت کیف سے فرار کے چھے روز بعد روس کے جنوبی شہر روستوف نا دونو میں جمعہ کو اپنی پہلی نیوز کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ وہ اب بھی یوکرین کے جائز صدر ہیں۔انھوں نے یوکرینی حکام، حزب اختلاف اور یورپی کونسل کی نگرانی میں ملک میں پیش آئے پرتشدد واقعات کی تحقیقات پر زوردیا ہے۔

یانوکوویچ کے بہ قول انھیں اس بات پر حیرت ہے کہ روسی صدر ولادی میر پوتین نے اب تک یوکرینی بحران کے حوالے سے ایک لفظ بول کے نہیں دیا ہے۔انھوں نے محتاط روش اور خاموشی اختیار کررکھی ہے اور یہ ایک اہم سوال ہے۔قبل ازیں وہ یہ کہہ چکے ہیں کہ انھوں نے روسی صدر سے ٹیلی فون پر گفتگو کی تھی لیکن ان کی روس میں آمد کے بعد سے ان سے ملاقات نہیں ہوئی ہے۔

انھوں نے یوکرین میں پیش آئے تشدد کے واقعات پرعوام سے معافی مانگی ہے اور کہا کہ''میں سارے عوام اور خاص طور پر معمر فوجیوں سے معذرت خواہ ہوں کیونکہ میں پرتشدد واقعات کو نہیں روک سکا تھا اور ملک میں استحکام برقرار نہیں رکھ سکا تھا''۔انھوں نے زور دے کر کہا کہ انھوں نے پولیس کو مظاہرین پر فائرنگ کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔

یوکرین کے بھگوڑے صدر نے امریکا سمیت مغربی ممالک اور مسلح مظاہرین کے رہنماؤں کو ملک میں برپا شدہ بحران اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ذمہ دار ٹھہرایا اور ان پر 21 فروری کو طے شدہ سمجھوتے سے انحراف کا الزام عاید کیا۔

یانوکوویچ نے یہ بھی کہا کہ روس کو چاہیے کہ وہ یوکرین میں تشدد اور افرتفری کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ یوکرین میں غیرملکی مداخلت کے قطعی خلاف ہیں اور ان کے بہ قول موجودہ صورت حال میں کوئی بھی فوجی اقدام ناقابل قبول ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ ناجائز ہتھیار رکھنے والے لوگوں سے کہا کہ وہ یہ ہتھیار پولیس کے حوالے کر دیں۔انھوں نے یوکرین کی آئینی عدالت کے ججوں کی برطرفی کی سخت مذمت کی۔ان سے جب سوال کیا گیا کہ وہ روس پہنچنے میں کیسے کامیاب ہوئے تھے تو بھگوڑے صدر نے کہا کہ بعض محب وطن افسروں نے ان کی جان بچانے میں مدد کی تھی اور وہ انھی کی مدد سے روس پہنچے تھے۔