.

ملائشیا: بیجنگ جانیوالا طیارہ دوران پرواز لاپتہ، 239 زندگیاں خطرے میں

رابطہ منقطع ہونے کے بعد سمندر میں گر جانیکا خدشہ، تلاش کیلیے آپریشن جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ملائشیا ائیر لائنز کا مسافر طیارہ جس کا ائیر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا کے بارے میں خدشہ ہے کہ سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا ہے۔ سرکاری طور پر طیارے کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کر دی گئی ہے۔

طیارہ کے ساتھ آخری رابطہ ویتنامی جزیرہ تاو چو کے قریب پرواز کے دوران ہوا تھا۔ یہ جزیرہ جنوبی ویتنام کے جنوب مغرب میں واقع ہے جو سیاحوں کے لیے بڑی کشش رکھتا ہے۔

طیارہ کوالالمپور سے علی الصبح 239 مسافروں کو لے کر روانہ ہوا تھا۔ روانگی کے 41 منٹ بعد ائیر ٹریفک کنٹرول کا رابطہ منقطع ہو گیا۔ ملائشیا ائیر لائنز کے مطابق پرواز نمبر ایم ایچ 370 ملائشیا کے وقت کے مطابق علی الصبح دو بج کر چالیس منٹ پر رابطے سے باہر ہو گئی تھی۔ طیارے پر دو چھوٹے بچوں سمیت کل 227 مسافر اور عملے کے 12 ارکان سوار ہیں۔

ائیر لائنز کے مطابق کوالالمپور سے روانہ ہونے والی اس پروازکو شیڈول کے مطابق چھ بج کر تیس منٹ پر بیجنگ پہنچنا تھا، جبکہ اس پر 152 چینی، 38 ملائی باشندوں کے علاوہ انڈونیشیا کے 12 اور آسٹریلیا کے مسافر سوار تھے۔

طیارے پر تین امریکی، تین ہی فرانسیسی، جبکہ نیوزی لینڈ، یوکرین، اور کینیڈا کے دو دو مسافر تھے، علاوہ ازیں اٹلی، آسٹریا، ہالینڈ اور تائیوان کا ایک ایک مسافر سوار تھا۔

چین کے ایک خبر رساں ادارے کے مطابق ملائشیا، چین اور سنگاپور نے مل کر لاپتہ ہونے والے طیارے اور اس کے مسافروں کی تلاش کیلیے آپریشن شروع کر دیا ہے۔ یہ اطلاعات چین کے سول ایوی ایشن حکام اور ویتنام کے ایویشن سے متعلقہ حکام کے حوالے سے سامنے آئی ہیں۔

دریں اثناء ویتنامی بحریہ کے ذمہ دار افسر ایڈمرل وین پھات کے مطابق '' یہ طیارہ اے ٹی سی کے رابطے سے نکلا تو اس کی پوزیشن ویتنامی ساحل سے 153 میل کے فاصلے پر تھی۔ اس کی رفتار اور پرواز کے حوالے سے خدشہ ہے کہ طیارہ ملائشیا کے پانیوں میں گرا ہے۔''

ایڈمرل نے اس سے پہلے ویتنام کے سرکاری میڈیا کے ذریعے سامنے آنے والی ان اطلاعات کی بھی تردید کی ہے جن میں انہی کا حوالہ دے کر کہا گیا تھا کہ ملائشیا کا طیارہ گر کر تباہ ہو گیا ہے۔

ویتنامی بحریہ کے اس افسر کا کہنا تھا کہ '' ملائشیا اور تھائی لینڈ کی ٹیمیں زیادہ بہتر انداز میں طیارے اور اس کے مسافروں کے ریسکیو کا کام کر سکتی ہیں۔ تاہم ویتنام کی بحریہ کی کشتیاں بھی ملائشیا کی طرف سے مدد کی درخواست پر تیار ملیں گی۔''