.

مالکی کے الزامات، یو اے ای نے عراق سے سفیر واپس بلا لیا

سعودی عرب کی حمایت میں امارات کے عراق سے سفارتی تعلقات عارضی طور پر منقطع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات نے عراقی وزیراعظم نوری المالکی کے سعودی عرب پر دہشت گردی کی حمایت سے متعلق الزامات کے خلاف احتجاج کے طور پر بغداد میں متعین اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے۔

عراق کے شیعہ وزیراعظم نوری المالکی نے ہفتے کے روز فرانس کے 24 ٹی وی چینل کے ساتھ ہفتے کے روز ایک انٹرویو میں سعودی عرب اور قطر پر کھلے بندوں مغربی صوبے الانبار میں سنی مزاحمت کاروں کو رقوم مہیا کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔الانبار میں سنی مزاحمت کاروں اور عراقی فوج کے درمیان جنوری سے جاری لڑائی کے بعد عراقی وزیراعظم کا سعودی عرب اور قطر کے خلاف یہ سب سے سخت بیان تھا۔

سعودی عرب نے نوری المالکی کے ان الزامات کو جارحانہ اور غیر ذمے دارانہ قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔واضح رہے کہ متحدہ امارات نے اسی ہفتے سعودی عرب کی جانب سے مصر کی مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دیے جانے کی بھی حمایت کی تھی اور اب یہ دوسرا موقع ہے کہ اس نے سعودی عرب کی حمایت میں عراق سے سفارتی تعلقات عارضی طور پر منقطع کرلیے ہیں اور اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی (ایس پی اے) نے سوموار کو ایک سرکاری عہدے دار کا بیان نقل کیا تھا جس میں انھوں نے عراقی وزیراعظم کے ''حالیہ جارحانہ اور غیر ذمے دارانہ بیانات پر حیرت کا اظہار کیا تھا''۔اس سعودی عہدے دار نے کہا کہ ''نوری المالکی سعودی مملکت کی دہشت گردی ،اس کی تمام اقسام اور اس کے ذرائع کے خلاف مؤقف کو کسی اورشخصیت سے زیادہ بہتر طورپر جانتے ہیں۔وہ سعودی مملکت کی جانب سے مقامی اورعالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کی جانے والی کوششوں سے بھی بخوبی آگاہ ہیں''۔

اس عہدے دار نے کہا کہ سعودی عرب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہراول کا کردارادا کررہا ہے۔انھوں نے عراقی وزیراعظم نوری المالکی پر زوردیا کہ وہ اس طرح کی بیان بازی کے بجائے اپنے ملک کو طوائف الملوکی اور روزانہ پیش آنے والے تشدد کے واقعات سے بچائیں۔

اس ذریعے کا کہنا تھا کہ ''نوری المالکی اس طرح کے بیانات کے ذریعے داخلی سطح پر اپنی ناکامیوں اور پالسیوں پر پردہ ڈالنے اوران سے توجہ ہٹانے کی کوشش کررہے ہیں کیونکہ انھوں نے اپنی پالیسیوں کی بدولت عراق کوعلاقائی اداکاروں کی خدمات کے لیے پیش کررکھا ہے''۔

نوری المالکی عراق میں عام انتخابات قریب آنے کے بعد سے خود کو ایک شیعہ لیڈر اور ایران کے اتحادی کے طور پر پیش کررہے ہیں تا کہ وہ اس طرح ووٹروں کے جذبات سے فائدہ اٹھا کر دوبارہ منتخب ہوسکیں۔انھوں نے قطر اور سعودی عرب پر یہ الزام عاید کرنے سے بھی گریز نہیں کیا تھا کہ وہ القاعدہ سے وابستہ گروپوں کے ذریعے شام میں گذشتہ تین سال سے جنگ لڑرہے ہیں اور اب یہی گروپ شام اورعراق دونوں ممالک میں بروئے کار ہیں۔

القاعدہ سے وابستہ دولت اسلامی عراق وشام(داعش) کے جنگجوؤں نے الانبار کے دوشہروں رمادی اور فلوجہ پر جنوری سے قبضہ کررکھا ہے اور اس تنظیم نے 2013ء کے وسط کے بعد سے عراق کے مختلف شہروں میں تباہ کن بم حملے کیے ہیں جن کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

عراق کے مختلف شہروں میں فروری میں بم دھماکوں میں سات سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ان میں صوبہ الانبار میں سنی جنگجوؤں اور فوج کے درمیان جھڑپوں میں ہونے والی تین سو ہلاکتیں شامل نہیں ہیں۔واضح رہے کہ 2013ء عراق کے لیے 2008ء کے بعد مہلک ترین سال ثابت ہوا تھا اور اس سال کے دوران تشدد کے واقعات میں آٹھ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔