سعودی عرب نے اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دے دیا
داعش، النصرۃ محاذ اور حزب اللہ کی سعودی شاخ بھی دہشت گرد گروپ قرار
سعودی عرب نے مصر کی مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون سمیت چار جنگجو گروپوں کو دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔
العربیہ ٹیلی ویژن چینل کی رپورٹ کے مطابق جمعہ کو جاری کردہ ایک سعودی شاہی فرمان میں اخوان المسلمون کے علاوہ سعودی مملکت میں لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی شاخ اور شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف بر سر پیکار دو گروپوں دولت اسلامی عراق وشام (داعش) اور النصرۃ محاذ کو دہشت گرد قرار دے دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ اس وقت سیکڑوں سعودی شہریوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ داعش اور النصرۃ محاذ کی صفوں میں شامل ہو کر شام میں جنگ لڑ رہے ہیں۔ سعودی حکام نے ان کی وطن واپسی کے لیے ڈیڈلائن میں توسیع کردی ہے۔
شاہی فرمان کے مطابق ان مذکورہ چاروں گروپوں کی رکنیت اختیار کرنے، ان کی مالی معاونت اور ان کی حمایت کرنے والوں کو فوجداری مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ غیر مجاز فتوے جاری کرنے پر بھی پابندی عاید کر دی گئی ہے۔
سعودی شوریٰ کونسل کے رکن محمد زلفیٰ کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کو طویل عرصہ قبل نافذ العمل ہو جانا چاہیے تھا۔ انھوں نے کہا کہ ''سعودی مملکت نے مسلمان ہونے کا دعوے کرنے والے ہر کسی کے لیے اپنی سرحدیں اور جامعات کے دروازے کھول دیے تھے لیکن ہمیں دھوکا دیا گیا ہے''۔ ان کا کہنا تھا کہ ''یہ فیصلہ بہت پہلے کر لیا جاتا تو ہم ان دہشت گرد گروپوں کی بڑھوتری تو نہ دیکھتے''۔
-
مصر کا قطر کو اخوان المسلمون کی حمایت پر انتباہ
قطر کے ساتھ اختلافات معمول سے بڑھتے جارہے ہیں:حازم الببلاوی
مشرق وسطی -
اخوان سے تعلق کی پاداش میں 29 مصری و اماراتی شہریوں کو سزا
اخوان المسلمون کیلیے آئندہ دنوں عرب دنیا میں مشکلات بڑھنے کا اندیشہ
مشرق وسطی -
اخوان المسلمون باضابطہ طور پر دہشت گرد تنظیم قرار
منظم سیاسی ومذہبی جماعت کے زیر اہتمام ملک بھر میں مظاہروں پر پابندی
بين الاقوامى -
ایران، حزب اللہ شامی عوام کے قتل عام میں ملوث ہیں: اخوان
"اخوان المسلمون شام میں تنہا اقتدار پر قبضہ نہیں کرے گی"
مشرق وسطی -
شامی جنگجو گروپ النصرۃ محاذ پر اقوام متحدہ کی پابندیاں عاید
بشارالاسد مخالف تنظیم کا نام القاعدہ سے متعلق گروپوں کی فہرست میں شامل
بين الاقوامى -
القاعدہ کے زیرحراست جنگجوؤں کا بشارالاسد سے تعلق کا اعتراف
داعش کے جنگجو صحافیوں اور عام لوگوں کے قتل کا پتا چلنے کے بعد الگ ہوگئے
مشرق وسطی