.

مخصوص سیاسی ٹولہ انتخابات کو یرغمال بنانا چاہتا ہے: زیدان

لیبیا کے مفرور سابق وزیر اعظم کا "العربیہ" کو خصوصی انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے مفرور سابق وزیراعظم علی زیدان نے کہا ہے کہ ان کے ملک میں ایک مخصوص ٹولہ انتخابات کو یرغمال بنانے کی سازش کررہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرپشن الزامات جھوٹ کا پلندہ ہیں۔ "میرے خلاف تحریک عدم اعتماد کی منظوری کے بعد ملک میں امن وامان کی صورت حال سنگین حد تک خراب ہوگئی ہے۔ میں نے جان بچانے کے لیے ملک چھوڑا ہے۔"

لیبیا کے مفرور سابق وزیراعظم علی زیدان نے ان خیالات کا اظہار "العربیہ" نیوز چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا ہے۔ لیبیا سے فرار کے بعد یہ ان کا کسی نشریاتی ادارے کو دیا گیا پہلا انٹرویو ہے۔

علی زیدان نے کہا کہ اخوان المسلمون کے حامیوں پر مشتمل ایک گروپ لیبیا پر اپنا تسلط قائم کرنا چاہتا ہے۔ یہ گروہ ملک میں آزادانہ اور شفاف انتخابات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے لیبی پارلیمنٹ پر جانب داری کا الزام عائد کیا اور کہا کہ پوری پارلیمنٹ دو گروپوں کی طرف دار ہوگئی تھی جنہوں نے مل کرمیرے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی۔

ایک سوال کے جواب میں سابق وزیراعظم نے کہا کہ بعض ارکان پارلیمنٹ نے مجھے ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا۔ یہ ایک مخلصانہ مشورہ تھا۔ میں واپس اپنے ملک جانے کے لے تیار ہوں مگر جب تک امن وامان کی صورت حال بہتر نہیں ہو جاتی واپس نہیں جاؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ میں وزارت عظمیٰ کے منصب کا ہرگز متمنی نہیں، اب اگر مُجھے وزارت عُظمیٰ کی پیش کش بھی کی جاتی ہے تو قبول نہیں کروں گا۔

بدعنوانی کے الزامات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں سابق وزیراعظم نے کہا کہ میرے خلاف کرپشن کے تمام الزامات من گھڑت ہیں۔ لیبیا کی عدالتوں میں میرے خلاف ثابت کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پارلیمنٹ اپنا وقار اور آئینی حیثیت کھو چکی ہے۔ میرے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرکے پارلیمنٹ کے ذریعے جعل سازی کی گئی۔