پچاس ممنوعہ ناموں کی فہرست جاری نہیں کی: وزارت داخلہ

ممنوعہ ناموں سے بچوں کی رجسٹریشن کے بارے میں خبریں بے بنیاد ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے واضح کیا ہے ملک میں صرف قانونی اور شرعی طور درست سمجھے جانے والے ناموں کے ساتھ ہی بچوں کی رجسٹریشن کی جاتی ہے۔ غیر قانونی نو مولود اور ممنوعہ ناموں کے ساتھ بچوں کی رجسٹریشن سے متعلق سوشل میڈیا پرآنے والی تمام افواہیں بے بنیاد ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق وزارت داخلہ کی شہری امور ایجنسی کے ترجمان محمد بن جاسر الجاسر نے بتایا کہ ادارہ صرف قانونی اور شرعی طور پر جائز نو مولود بچوں کی رجسٹریشن کرتا ہے۔ ناجائز بچوں اور ممنوعہ ناموں کی رجسٹریشن سے متعلق افواہیں من گھڑت اور بے بنیاد ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ شہریت اور بچوں کی رجسٹریشن سے متعلق ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہیں کی جا رہی ہے۔ شریعت میں جن ناموں کے ساتھ بچوں کو موسوم کیے جانے کی گنجائش موجود ہے، صرف انہی ناموں کے رجسٹریشن بھی کی جاتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں جاسر الجاسر کا کہنا تھا کہ بچوں کی رجسٹریشن کے وقت ان کے عربی ناموں کے قواعد کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ محض القاب کی بناء پر کسی بچے کی رجسٹریشن نہیں کی جاتی۔ ایسے الفاظ جو نام کا حصہ ہی نہ ہوں ان پر کسی بچے کی رجسٹریشن نہیں کی جاتی۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکب ناموں کی رجسٹریشن بھی نہیں کی جاتی کیونکہ اس سے ابہام پیدا ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حال ہی میں بعض ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں نمایاں طور پر سامنے آئیں کہ وزارت داخلہ نے پچاس کے لگ بھگ خلاف شرع ناموں کے ساتھ نومولود بچوں کی رجسٹریشن مکمل کی ہے۔ یہ تمام خبریں من گھڑت ہیں۔ حکومت کی طرف سے اسپتال انتظامیہ سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ محکمہ سول افیئر کی جانب سے ممنوعہ ناموں کے ساتھ بچوں کو تاریخ پیدائش کا سرٹیفکیٹ جاری نہ کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں