ملائشین خاتون کا بحرہند میں لاپتا طیارہ دیکھنے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی ائیرلائنز کی ایک پرواز میں سفر کرنے والی ایک ملائشین خاتون نے لاپتا طیارے ایم ایچ 370 کا ملبہ بحر ہند میں تیرتے ہوئے دیکھنے کا دعویٰ کیا ہے اور اس خاتون نے یہ ملبہ ملائشین طیارے کے غائب ہونے کے روز ہی دیکھا تھا۔

کوالالمپور سے تعلق رکھنے والی نیوزویب سائٹ ''دی اسٹارلائن''کی ایک رپورٹ کے مطابق تریپن سالہ رجا لطیفی 8 مارچ کو جدہ سے سعودی ائیرلائنز کی ایک پرواز کے ذریعے وطن واپس آرہی تھیں۔انھوں نے سمندر میں طیارے کے پروں اور دُم کی طرح کی کوئی چیز دیکھی تھی۔تب وہ بھارت کے ساحلی شہر چنائی کے اوپر پرواز کررہی تھیں۔

اس خاتون کے بہ قول انھوں نے طیارے کے عملے کے ایک رکن کو اپنے مشاہدے کے بارے میں بتایا تھا لیکن اس نے ان کی کھڑکی ہی بند کردی اور کہا کہ وہ خاموشی سے سوجائیں جبکہ دوسرے مسافر اس پر ہنسنا شروع ہوگئے تھے۔

اس خاتون کا کہنا ہے کہ وہ اس پر دل برداشتہ نہیں ہوئی تھیں بلکہ انھوں نے کوالالمپور میں پرواز سے اترنے کے بعد پولیس کے ہاں اپنے مشاہدے کے بارے میں رپورٹ بھی درج کرائی تھی۔

لیکن ایک پائیلٹ نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خاتون کے اس دعوے کے بارے میں سوال اٹھایا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ پینتیس ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کے دوران سمندر میں طیارے کی باقیات کو دیکھنا قریب قریب ناممکن ہے۔

اس پائِیلٹ کا کہنا ہے کہ یہ فاصلہ سطح سمندر سے قریباً سات میل بنتا ہے۔یوں اتنی بلندی سے زمین یا سمندر میں کوئی کشتی یا جہاز نظر نہیں آسکتا ہے لیکن ملائشین خاتون اپنے دعوے پر قائم ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے پہلی پولیس رپورٹ پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ 14 مارچ کو ایک اور رپورٹ درج کرائی تھی تا کہ حکام ان کے دعوے کو سنجیدگی سے لیں اور قابل اعتناء سمجھیں۔

انھوں نے بتایا کہ انھیں تو کوالالمپور کے ہوائی اڈے پر اترنے اور اپنے بچوں سے ملنے کے بعد پتا چلا تھا کہ ملائشین ائیر لائنز کا مسافر طیارہ لاپتا ہوگیا ہے۔اس خاتون کے بہ قول پرواز میں سفر کے دوران میرے بہت سے دوستوں نے پہلے تو میرے دعوے کے بارے میں شک کا اظہار کیا تھا لیکن اب وہ بھی اس بات میں یقین کرنے لگے ہیں کہ لاپتا ہونے والے طیارے نے اپنا رخ تبدیل کیا تھا اور وہ بحر ہند کی جانب چلا گیا تھا۔

ملائشیا کی قومی فضائی کمپنی کے اس مسافر طیارے کو لاپتا ہوئے دوہفتے گزر چکے ہیں لیکن اس کے اچانک غائب ہوجانے کا ہنوز معما حل نہیں ہوسکا ہے۔ملائشیا اور دوسرے دس بارہ ممالک کے درجنوں بحری جہاز اور طیارے 8 مارچ کو لاپتا ہونے والے طیارے بوئنگ 777-200 ای آر کو سراغ لگانے کی کوشش کرر ہے ہیں کہ وہ کہاں چلا گیا۔

یہ مسافر طیارہ کوالالمپور سے چین کے دارالحکومت بیجنگ جارہا تھا اور پرواز کے کوئی پون گھنٹے کے بعد لاپتا ہو کر راڈار سکرین سے غائب ہوگیا تھا۔اس میں 227 مسافر اور عملے کے بارہ ارکان سوار تھے۔سیٹلائٹ ڈیٹا کی بنیاد پر یہ کہا جارہا ہے کہ طیارہ دو وسیع کوریڈروز میں سے کسی ایک میں ہوسکتا ہے۔ان میں سے ایک لاؤس سے بحیرہ کیسپئین اور دوسرا جنوب سے مغرب میں انڈونیشیا کے جزیرے سماٹرا اوربحرہند سے آسٹریلیا کے مغرب تک ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں