سعودی عرب: شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز آیندہ ولی عہد ہوں گے
سعودی دارالحکومت ریاض میں جمعرات کو شاہی دیوان کی جانب سے جاری کردہ ایک فرمان میں کہا گیا ہے کہ شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز ولی عہد کا عہدہ خالی ہونے کی صورت میں مملکت کے آیندہ ولی عہد ہوں گے۔
سعودی عرب کے سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والے بیان کے مطابق شہزادہ مقرن کرسی خالی ہونے کی صورت میں ملک کے بادشاہ بھی بن سکتے ہیں۔
العربیہ نیوز چینل سے نشر ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ''شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے شہزادہ مقرن کو بادشاہ اور ولی عہد کے عہدے خالی ہونے کی صورت میں سعودی مملکت کا بادشاہ مقرر کردیا ہے''۔
سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی عمر اس وقت نوے سال سے زیادہ اور ولی عہد شہزادہ سلمان کی عمر اٹھہتر برس ہے۔شہزادہ مقرن 1945ء میں پیدا ہوئے تھے اور ان کی عمر قریباً ستر سال ہے۔
انھیں گذشتہ سال سعودی عرب کا نائب وزیراعظم مقرر کیا گیا تھا۔اس سے قبل وہ سعودی عرب کے سراغرساں ادارے کے سربراہ تھے۔وہ اکتوبر 2005ء سے جولائی 2012ء تک اس منصب پر فائز رہے تھے۔شاہ عبداللہ نے 20 جولائی 2012ء ان کی جگہ شہزادہ بندر بن سلطان انٹیلی جنس چیف مقرر کیا تھا اور شہزادہ مقرن کو اپنا مشیر اور خصوصی ایلچی مقرر کردیا تھا لیکن بعد میں انھیں نائب وزیراعظم کے منصب پر فائز کردیا گیا تھا۔
سعودی نائب وزیراعظم کو روایتی طور پر ولی عہد کا جانشین سمجھا جاتا ہے۔یوں اگر ولی عہد کا منصب خالی ہوتا ہے تو شہزادہ مقرن ولی عہد اور بادشاہت کی کرسی خالی ہونے کی صورت میں سعودی مملکت کے بادشاہ بن جائیں گے۔سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے اپنی علالت کے پیش نظر انھیں غالباً یہ منصب سونپا ہے۔
برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز سعودی فرمانروا کے نئے شاہی فرمان کو سعودی عرب میں استحکام کی علامت قراردیا ہے جہاں کسی اتھل پتھل کے بغیر حکمراں اور ولی عہد کی جانشینی کا معاملہ طے کیاجارہا ہے۔واضح رہے کہ خطے میں سعودی عرب ان چند ممالک میں سے ایک ہے جو عرب بہاریہ تحریک کے اثرات سے محفوظ رہے ہیں اور انھیں اپنی داخلی استحکام کی بدولت اب تک کسی انقلابی تحریک کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔
-
شہزادہ مقرن کو سعودی عرب کا نائب وزیر اعظم مقرر کر دیا گیا
تقرری کے لئے خادم الحرمین الشریفین کا شاہی فرمان جاری
مشرق وسطی -
شہزادہ محمد بن نایف سعودی عرب کے نئے وزیر داخلہ نامزد
شہزادہ احمد بن عبدالعزیز ذمے داریوں سے سبکدوش
بين الاقوامى -
سابق گورنر مکہ شہزادہ خالد سعودی عرب کے نئے وزیر تعلیم مقرر
شہزادہ مشعل بن عبداللہ بن عبدالعزیز کو مکہ کا نیا گورنر مقرر بنا دیا گیا
بين الاقوامى -
برطانوی ولی عہد سعودی دورے پر، اعلی سعودی قیادت سے ملاقاتیں
شہزادہ چارلس کا یہ سعودی عرب کا یہ دسواں دورہ ہے
بين الاقوامى -
سعودی انٹیلی جنس چیف کی منصب پر جلد واپسی
مغربی میڈیا کی قیاس آرائیاں غلط ثابت ہوگئیں، علالت کے پیش نظر منظر سے غائب تھے
بين الاقوامى