.

قطر: فٹبال ورلڈ کپ کیلیے 12 نہیں صرف 8 سٹیڈیم

میزبان ملک بالعموم اپنا منصوبہ تبدیل نہیں کرتے: جیمز دورسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر نے 2022ء میں اپنے ہاں ہونے والے فٹ بال کے ورلڈ کپ کے سلسلے میں نئے سٹیڈیمز اور فٹ بال گراونڈز کی تعداد کم کرنے پر غور کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس امر کی ورلڈ کپ کے منتظمین نے بھی تصدیق کر دی ہے کہ قطر اپنی پہلے والی تجویزکا از سر نو جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اس سے پہلے قطر نے ورلڈ کپ کیلیے 12 سٹیڈیم بنانے کا منصوبہ پیش کیا تھا۔ اس منصوبے میں تین پرانے فٹ بال گراونڈز کی نئے سرے تراش خراش اور تزئین و آرائش بھی منصوبے میں شامل تھی۔ لیکن اب آرگنائزنگ کمیٹی کے سینئیر منتظم برائے منصوبہ جات غنیم الکوواری کے مطابق ''اب ان سٹیڈیمز کی تعداد بارہ سے کم کر کے آٹھ کرنے کی تجویز پر غور جاری ہے۔ '' تاہم غنیم الکوواری نے اس عظیم الشان منصوبے کو چھوٹا کرنے کی وجوہات ظاہر نہیں کی ہیں۔

قطر ورلڈ کپ کمیٹی نے '' العربیہ '' کے سامنے تصدیق کی ہے کہ سٹیڈیموں کی تعمیر اور دیگر لوازمات کے لیے جگہوں کا بھی ابھی تعین کرنا باقی ہے۔ دوسری جانب اس حوالے سے فائنل رپورٹ فیفا کی مجلس انتظامی کو منظوری کیلیے پیش کی جائے گی۔

ورلڈ کپ کیلیے کم از کم آٹھ سٹیڈیموں اور زیادہ سے زیادہ بارہ سٹیڈیموں کی ضرورت ہے۔ قطر کمیٹی کے ترجمان نے یہ تسلیم کیا کہ اس سے پہلے قطر کی طرف سے فیفا کو 12 سٹیڈیموں کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ ترجمان نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی ملک کے امکانی میزبان ہونے کی منظوری کے بعد بھی یہ غیر معمولی بات نہیں ہے کہ متوقع میزبان اپنے منصوبے میں تبدیلی کر لے۔

دوسری جانب عالمی سطح پر فٹ بال سے متعلق ایشوز کے ماہر جیمز دورسی کا کہنا ہے کہ ایسا کم ہی ہوا ہے کہ کسی میزبان نے اپنے منصوبے میں تبدیلی کی ہو۔ جبکہ قطر نے فیفا کو پچھلے سال ہی اپنے منصوبے میں تبدیلی کی تجاویز سے آگاہ کر دیا تھا، تاہم فائنل صرف فیفا کے ساتھ مشاورت سے ہی کرے گا۔ دورسی کا کہنا ہے عمومی طور ورلڈ کپ کا میزبان بننے کا خواہشمند مک انپے پہلے سے پیش کردہ منصوبے پر قائم رہتا ہے۔

دورسی کے خیال میں '' قطر کو یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ اس کی نئی تجاویز ٹورنامنٹ پر کسی طرح منفی اثر کا باعث نہیں بنیں گی۔ واضح رہے قطر کے معاملے میں ورلڈ کپ کے لیے حتمی وقت اور سال کے مہینوں کا تعین ہونا ابھی باقی ہے۔ دورسی کا کہنا ہے اگر قطر موسمی اثرات کو کم رکھنے کیلیے ٹھنڈک کا ماحول دے سکا تو ہو سکتا ہے کہ ورلڈ کپ موسم گرما میں ہو۔

واضح رہے قطر میں 2022 میں متوقع ورلڈ کپ کیلیے 200 ارب ڈالر کی لاگت سے تعمیرات کا تخمینہ ہے۔ قطر نے اپنے ہاں ورلڈ کپ کرانے کیلیے دو ملین ڈالر مبینہ طور پر فیفا کے ذمہ داروں کو پیش کیے ہیں۔ قطر کے حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے میزبان بننے کیلیے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے۔