.

مرد و زن میں برابری سے متعلق خامنہ ای کا فلسفہ مسترد

خواتین کو مردوں کے مساوی حقوق حاصل ہیں: روحانی، رفسنجانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی اور سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی نے رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ علی خامنہ ای کے مردو زن میں عدم مساوات سے متعلق موقف کی سخت مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حقوق و فرائض میں خواتین اور مردوں کے درمیان برابری مغربی طرز فکر نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں خواتین کے عالمی دن کے موقع پر آیت اللہ علی خامنہ ای نے خواتین کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کہا تھا کہ اسلام میں مرد اور خواتین کی الگ الگ ذمہ داریاں ہیں، جس کی بنیاد پر ان کے حقوق و فرائض بھی الگ ہیں۔ مردو زن میں مساوات کا مروجہ تصور مغربی طرز فکر کی بنیاد پر ہے۔ اسلام میں خواتین کی اصل ذمہ داری گھر داری اور بچوں کی تعلیم وتربیت ہے۔

اس کے ردعمل میں سابق صدر علی اکبر ھاشمی رفسنجانی نے اپنی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں کہا کہ "خواتین کو گھروں میں بند کرنا اور انہیں صرف بچوں کی تعلیم تربیت تک محدود رکھنا عقل اور منطق کے خلاف ہے"۔

ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے بھی مرد و زن کے حقوق میں عدم مساوات سے متعلق سپریم لیڈر کا موقف مسترد کر دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ ایرانی ثقافت میں خواتین سے امتیازی سلوک کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ خواتین کو بھی مردوں کے مساوی بنیادی حقوق اور مواقع سے فائدہ اٹھانے کا حق ہے اور انہیں مردوں کے برابر سماجی حقوق حاصل ہیں۔ مردوں کو عورتوں پر اور عورتوں کو مردوں پر کوئی فضیلت اور فوقیت حاصل نہیں ہے اور بہ حیثیت انسان دونوں برابر ہیں۔

ایرانی صدر نے ایک بیان میں کہا کہ " مقام ومرتبے اور انسانی عزت و وقار کے اعتبار سے بھی عورتیں مردوں کے برابر ہیں۔ اس باب میں دونوں کے درمیان کوئی فرق اور امتیاز نہیں ہے۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں خواتین کی شرکت کا خوف ایک غلط سوچ ہے۔ ہمیں اس خوف کو اسلام اور قرآن پاک کی تعلیمات سے نہیں جوڑنا چاہیے"۔

اُنہوں نے تسلیم کیا کہ ایران میں خواتین کو ان کے بنیادی حقوق کی فراہمی میں کوتاہی ہوئی ہے جس کے نتیجے میں خواتین کے طبقے میں مایوسی پھیلی تاہم وہ خواتین میں پائی جانے والی مایوسی کو ختم کر کے انہیں مردوں کے برابر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس سے قبل سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ خواتین اور مردوں کی ذمہ داریوں کے دائرے الگ الگ ہیں۔ خواتین کا گھر سے باہر کی دنیا سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا اصل کام گھریلو امور کی نگرانی اور بچوں کی تعلیم وتربیت اور ان کی نگہداشت ہے۔ مردو زن میں مساوات کا مروجہ تصور مغربی طرز فکر ہے۔

انہوں نے کہا کہ مغرب خواتین کے اصل حقوق و فرائض کو سمجھنے میں غلطی کر رہا ہے اور اپنی مرضی کا فلسفہ پوری دنیا پر مسلط کرتے ہوئے عورتوں کو تمام شعبہ ہائے زندگی میں گھسیٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران کے سابق صدر نے خامنہ ای کے اس فلسفے کو رد کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ خواتین ہرشعبہ ہائے زندگی میں مردوں کے شانہ بہ شانہ کام کر سکتی ہیں اور اسلام میں اس کی کوئی ممانعت بھی نہیں ہے۔ اگر کوئی خاتون بہتر وزیر، کارخانے کی ڈائریکٹر، یونیورسٹی کی چانسلر اور سیاسی مشیرہ بن سکتی ہے تو اسے یہ حق ملنا چاہیے۔