.

اللہ مجھے مسلمانوں پر مظالم بند کرانے کی توفیق دے: اوباما

امریکی صدر کی ملائیشین عالم دین سے دعا کی درخواست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر باراک اوباما نے ملائیشیا کے دورے کے دوران جہاں حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں کیں وہیں انہوں نے ملائیشیا کے مفتی اعظم اسماعیل محمد سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں امریکی صدر نے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں اپنے خیر سگالی کے جذبے کا برملا اظہار کیا اور مذہب اسلام کو وہی احترام دینے کی کوشش کی جو اس کے شایان شان ہے۔

امریکی صدر کوالالمپور کی سب سے بڑی نیشنل مسجد میں گئے جہاں انہوں نے مسجد کے امام اور مفتی اعظم اسماعیل محمد کے ساتھ پچیس منٹ گذارے۔ اس دوران وہ مسجد کے مختلف حصے دیکھتے ہوئے انہوں نے اسلام کے بارے میں کھل کر اظہار خیال کیا۔ انہوں مسجد سے متصل ملائیشیا کے سابق فرمانرواؤں کے مزارات پر بھی حاضری دی۔

مسٹر اوباما نے سیاہ رنگ کاایک چغہ زیب تن کر رکھا تھا اور مسجد میں داخل ہوتے ہیں انہوں نے جوتے اتار کر ایک طرف رکھ دیے تھے۔

اس موقع پر الشیخ اسماعیل محمدی نے امریکی صدر سے کہا کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے دنیا بھر میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم بند کرائیں۔ اس پر امریکی صدر نے الشیخ اسماعیل سے کہا کہ "آپ میرے لیے دعا کریں کہ اللہ مجھے مسلمانوں پر مظالم بند کرانے کی توفیق دے"۔

بعد ازاں ملائیشین خبر رساں ایجنسی "برناما" سے گفتگو کرتے ہوئے ممتاز عالم دین الشیخ اسماعیل محمد نے اوباما کے ساتھ ہونے والی گفتگو کی تفصیلات بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ اوباما کے دل میں اسلام کا احترام موجود ہے اور انہوں نے اپنی زبان سے بھی اس کا اظہار کیا۔
میں نے امریکی صدر سے کہا کہ وہ دنیا میں مسلمانوں پر جاری مظالم بند کرائیں تو ان کا جواب تھا کہ "مظلوم کوئی مسلمان ہو یا غیرمسلم میں اس کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔ میں جب بھی نیند سے بیدار ہوتا ہوں تو ان جھگڑوں کے خاتمے کی کوششوں میں جُت جاتا ہوں جو انسانی معاشروں پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں"۔

ستر سالہ امام اسماعیل محمد نے بتایا کہ اوباما اکثر میری بات کا جواب "ان شاء اللہ " کہہ کر دیتے۔ انہوں نے کئی بار ملائیشن زبان میں میرا شکریہ ادا کیا۔ امریکی صدر روانی کے ساتھ ملائیشن زبان تو نہیں بول سکتے تھے لیکن وہ میری بات سمجھ رہے تھے۔ مجھ سے ملایا زبان میں بات کرنا ان کی شفقت اور دوستی کا مظہر تھا۔

قبل ازیں امریکی صدر نے ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں جامعہ ملایا میں طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "ہم سب کو انسانوں کے درمیان نسلی امتیاز کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ ہمارے ملک میں کئی نسلیں رنگ ونسل کی بھینٹ چڑھ گئیں، لیکن ہم نے اسے ختم کرنے کی جدوجہد جاری رکھی۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ آج امریکا میں ایک سیاہ فام افریقی نژاد صدر بن چکا ہے۔ ملائیشیا کے عوام کو بھی غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ مذہب سے بالا تر ہو کر برابری کی بنیاد پر سلوک کرنا چاہیے۔"