یمنی فوج کے ساتھ جھڑپ میں القاعدہ کے لیڈر سمیت 7 ہلاک
جنوبی صوبوں ابین اور شیبوۃ کے دیہات اور قصبوں میں القاعدہ کے خلاف کارروائی
یمن کے دو جنوبی صوبوں میں فوج کی جزیر نما عرب میں القاعدہ کے خلاف کارروائی کے دوران اس تنظیم کے ایک سرکردہ لیڈر ابو مسلم الازبکی سمیت سات جنگجو مارے گئے ہیں۔
یمنی وزارت دفاع کی نیوز ویب سائٹ 26 ستمبر ڈاٹ نیٹ نے جمعرات کو اطلاع دی ہے کہ فوج نے جنوبی صوبے شیبوہ کے دو قصبوں میفع اور اذان میں بدھ کی رات القاعدہ سے وابستہ تنظیم کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی شروع کی تھی۔
فوج کی کارروائی میں تین گاڑیاں تباہ ہوگئی ہیں اور ان میں سوار تمام جنگجو مارے گئے ہیں۔ان دونوں قصبوں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ فوج اور جنگجوؤں کے درمیان شدید لڑائی ہورہی ہے۔
یمنی فوج نے دو جنوبی صوبوں شیبوۃ اور ابین کے چھوٹے قصبوں اور دیہات میں القاعدہ کے بچے کچھے جنگجوؤں کے خلاف منگل کو ایک بڑی کارروائی شروع کی تھی لیکن اس کارروائی کے آغاز ہی میں فوج کو اس وقت جانی نقصان اٹھانا پڑا جب القاعدہ کے ایک حملے میں پندرہ فوجی مارے گئے اور پندرہ کو انھوں نے یرغمال بنا لیا۔بعد میں انھوں نے یرغمالیوں میں سے تین کو قتل کردیا تھا۔
گذشتہ تین روز کے دوران فوج اور القاعدہ کے جنگجوؤں کے درمیان جھڑپوں میں اکیس فوجی اور اکیس مشتبہ جنگجو مارے گئے ہیں۔یمنی فوج کو امریکی فضائیہ کی مدد بھی حاصل ہے اور وہ القاعدہ جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر فضائی بمباری کررہی ہے۔
واضح رہے کہ امریکی سی آئی اے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں سے یمن میں مشتبہ جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر 2012ء سے میزائل حملے کررہی ہے لیکن امریکا نے سرکاری طور پر کبھی ان حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی اور نہ یمنی حکومت کی جانب سے ان حملوں کے خلاف کوئی احتجاجی بیان سامنے آیا ہے بلکہ امریکا کو القاعدہ کے جنگجوؤں کی بیخ کنی کے لیے یمن کی درپردہ حمایت حاصل ہے اور عوامی غیظ وغضب سے بچنے کے لیے سرکاری طور پر ان حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی جاتی ہے۔
جزیرہ نما عرب میں القاعدہ سےوابستہ جنگجوؤں نے گذشتہ مہینوں کے دوران یمن کے جنوبی صوبوں میں تیل کی تنصیبات ،سکیورٹی فورسز اور غیر ملکیوں پر بیسیوں حملے کیے ہیں۔ امریکا القاعدہ کی اس تنظیم کو سب سے خطرناک جنگجو گروپ قراردیتا ہے۔
اس تنظیم کے جنگجوؤں نے 2011ء میں سابق صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے دوران مرکزی حکومت کی اقتدار پر گرفت ڈھیلی پڑںے کے بعد جنوبی صوبے ابین میں اپنی عمل داری قائم کرلی تھی۔تاہم بعد میں یمنی سکیورٹی فورسز نے القاعدہ کوابین اور دوسرے جنوبی علاقوں سے نکال باہر کیا تھا۔
-
یمن: ڈرون حملوں میں 40 القاعدہ ارکان ہلاک
ہفتے اور اتوار کے روز پے در پے ڈرون حملے
مشرق وسطی -
یمن: ڈرون حملے میں 15 عسکریت پسند ہلاک
حملے میں تین عام لوگ بھی جاں بحق ہو گئے
مشرق وسطی -
یمنی سرحد کے نزدیک حملے میں دو سعودی محافظ جاں بحق
نامعلوم مسلح افراد کی یمن کے سرحدی علاقے سے سعودی فوجیوں پر فائرنگ
بين الاقوامى -
ایران نواز یمنی شدت پسندوں کا جارجانہ منصوبہ طشت ازبام
جنوبی یمن کی علاحدگی کی تحریک کے بیس سال مکمل
بين الاقوامى -
یمنی القاعدہ میں شمولیت کی کوشش، دو سعودی خواتین گرفتار
4 سے 14 سال کی عمر کے 6 بچوں کو الجازان سے یمن اسمگل کرنے کی کوشش ناکام
ایڈیٹر کی پسند -
یمن: القاعدہ کی جھڑپیں، دو فوجی اور جنگجو ہلاک
سکیورٹی فورسز نے چار عسکریت پسند گرفتار کر لیے
مشرق وسطی