یمن: القاعدہ کی جھڑپیں، دو فوجی اور جنگجو ہلاک
سکیورٹی فورسز نے چار عسکریت پسند گرفتار کر لیے
یمن کے مغربی صوبے الحدیدہ میں بدھ کے روز القاعدہ کے ساتھ جھڑپوں کے دوران دو فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ یمنی وازارت داخلہ کے مطابق ان جھڑپوں میں دو عسکریت پسند بھی مارے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے چار عسکریت پسندوں کو صبح سویرے سکیورٹی فورسز نے حراست میں لیا تو اس کے بعد جھڑپیں شروع ہو گئیں۔
ان جھڑپوں کے بعد القاعدہ کے بچ نکلنے والے عسکریت پسند پہاڑوں میں چھپ گئے ہیں، اسی دوران سکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کی اسلحے سے بھری گاڑی قبضے میں لے لی ہے۔ واضح رہے یہ عسکریت پسند اپنی گاڑی چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔
یمن میں 2011 میں علی عبداللہ صالح کے اٹھنے والی عوامی تحریک کے بعد سے یمن بحرانی صورت حال سے گذر رہا ہے۔ اس عرصے میں علی عبداللہ کا اقتدار ختم ہونے کے بعد عبدالرب منصور بہتری کیلیے کوشاں ہیں۔
جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کی سرگرم ترین شاخیں موجود تھیں۔ یہ گروپ مقامی عسکریت پسندوں کے بڑے گروپ سے جڑا ہوا ہے، جو یمن میں پچھلے تین برسوں سے متحرک ہے۔ یہ عسکری گروپ یمنی حکومت اور غیر ملکی سفارت کاروں کو نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔
-
یمن: القاعدہ جنگجوؤں کے حملوں میں 10 فوجی ہلاک
فوج کی جوابی کارروائی میں بعض حملہ آور بھی مارے گئے
بين الاقوامى -
یمن میں القاعدہ کے حملے، 56 فوجی اور سیکیورٹی اہلکار ہلاک
حملوں کا ہدف جنوبی یمن کے شبوہ شہر میں فوجی کیمپ اور چوکیاں تھیں
بين الاقوامى -
یمن: پولیس نے القاعدہ کے سیل کا قلع قمع کردیا، ایک جنگجو ہلاک
القاعدہ کے جنگجوؤں پر جنوبی شہر عدن میں بم حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام
بين الاقوامى