.

شام میں القاعدہ گروپ کی حمایت کا الزام، کویتی وزیر مستعفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت کے وزیر عدل اور اسلامی امور نایف العجمی اپنے خلاف امریکا کے ایک سینیر عہدے دار کی جانب سے عاید کردہ دہشت گردی کی حمایت کے الزام کے بعد مستعفی ہو گئے ہیں۔

امریکا کے محکمہ خزانہ کے انڈر سیکریٹری برائے انسداد دہشت گردی ڈیوڈ کوہن نے مارچ میں کویتی وزیر پر الزام عاید کیا تھا کہ انھوں نے شام میں جہاد کی بات کی تھی اور دہشت گردی کے لیے رقوم مہیا کرنے کی حمایت کی تھی لیکن نایف العجمی نے ان الزامات کو من گھڑت اور بے بنیاد قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔

اب انھوں نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ امیر کویت نے ان کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے اور انھوں نے اس پر امیر کا شکریہ ادا کیا ہے۔انھوں نے ٹویٹر پر اپنے سرکاری اکاؤنٹ پر بھی یہ بیان جاری کیا ہے۔گذشتہ ماہ کویتی میڈیا نے یہ اطلاع دی تھی کہ انھوں نے امیر کویت کو خرابیِ صحت کی بنا پر مستعفی ہونے کی پیش کش کی تھی۔

واضح رہے کہ مسٹر ڈیوڈ کوہن نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ نایف عجمی شام میں جہاد کے فروغ کی ایک تاریخ رکھتے ہیں اور ان کی تصاویر شام میں القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ کے لیے چندہ اکٹھا کرنے کی مہم کے پوسٹروں پر بھی آویزاں کی گئی ہیں۔

کویت اقوام متحدہ کے ذریعے شام اور شامی مہاجرین کے لیے دنیا میں سب سے زیادہ انسانی امداد دینے والا ملک ہے لیکن اس کے ساتھ کویت میں لوگ اپنے طور پر بھی صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف محاذ آراء باغی جنگجوؤں کے لیے چندہ اکٹھا کرتے رہتے ہیں۔کویت خود تو شامی باغیوں کو مسلح کرنے کا مخالف ہے لیکن حکومت ان کے لیے گھروں ،مساجد اور عوامی مقامات یا سوشل میڈیا پر رقوم جمع کرنے والے لوگوں کے ساتھ کوئی زیادہ سختی کے ساتھ پیش نہیں آتی ہے۔تاہم کویت کے ایک سرکاری عہدے دار نے باغیوں کے لیے چندہ اکٹھا کرنے کی مہم کو غیر قانونی قراردیا ہے۔

انگریزی روزنامے کویت ٹائمز نے وزارت سماجی بہبود اور لیبر کے اسسٹنٹ انڈر سیکریٹری منیر الفاضلی کا سوموار کی اشاعت میں ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ ''ہمارے محکمے نے افراد کو چندہ جمع کرنے کا مجاز نہیں بنایا ہے اور نہ کوئی لائسنس جاری کیا ہے بلکہ ہم صرف سرکاری خیراتی اداروں ہی کو عطیات جمع کرنے کے لیے لائسنس جاری کرتے ہیں''۔

انھوں نے حال ہی میں منظرعام پر آنے والی ''شامی کالز'' نامی مہم کو خلاف قانون قراردیا اور کہا کہ اس کے منتظمین کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔''شامی کالز'' نے خود کو کویت میں شام کی حمایت میں چلنے والی مہموں کی یونین قراردیا ہے اور کہا ہے کہ اس کو معروف علماء اور حزب اختلاف کے سیاست دانوں کی حمایت حاصل ہے۔اس گروپ نے ایک آن لائن پوسٹر بھی جاری کیا ہے لیکن اس میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ عطیات کی شکل میں رقوم کس مقصد کے لیے اکٹھی کی جارہی ہیں۔