ایران، چین سوڈانی باغیوں کو اسلحہ و تربیت کی فراہمی میں ملوث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران اور چین سوڈان میں باغیوں کو اسلحہ اور جنگی تربیت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران سوڈان میں اسلحہ کی درامد کا دوسرا بڑا ذریعہ بن چکا ہے، جبکہ چین بھی اس میدان میں ایران کے قریب قریب ہے۔

خبر رساں ایجنسی" اےایف پی" کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں قائم لائیٹ ویپن کنٹرول پروگرام کے ریسرچ سینٹر کی دو سالہ تحقیقات کے بعد جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے سوڈان کے باغی گروپوں بالخصوص جنوبی سوڈان کے عسکریت پسندوں کو چین اور ایران کی جانب سے بھرپور اسلحہ سپلائی کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سوڈان میں اسلحہ کی ترسیل میں ایران کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔ تہران کھلے عام سوڈانی باغیوں کو اسلحہ اور ہر قسم کے جنگی ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔ اس میدان میں ایران کے بعد چین بھی پیش پیش ہے جو سوڈانی باغیوں کی جنگی تربیت اور اسلحہ کی فراہمی دونوں جاری رکھے ہوئے ہے۔

رپورٹ میں سوڈانی باغیوں کو فراہم کردہ اسلحہ کے چند نمونوں کا بھی ذکر ہے۔ پچھلے چند برسوں میں چین سے کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل آرو راکٹ لانچر سوڈانی باغیوں تک پہنچائے گئے۔ سوڈانی عسکریت پسندوں کو اسلحہ کی فراہمی کے ساتھ ساتھ خرطوم اور تہران کے درمیان براہ است غیر معمولی عسکری تعاون بھی جاری ہے جو خطے کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ مارچ میں اسرائیلی بحریہ نے بحر احمر میں ایک کشتی کو روک لیا تھا۔ تل ابیب کے دعوے کے مطابق بحری جہاز میں "ایم 302" طرز کے میزائل اور دیگر اسلحہ و جنگی ساز و سامان لادا گیا تھا جسے ایران سے سوڈان کے لیے بھیجا گیا تھا۔

اسرائیلی حکومت نےالزام عائد کیا تھا کہ ایران کھلے عام سوڈان کو اسلحہ سپلائی کر رہا ہے۔ پکڑی گئی کشتی بھی سوڈان کی بور بندرگاہ پہنچائی جانا تھی جہاں سے وہ اسلحہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی مزاحمت کاروں کو فراہم کیا جانا تھا۔ تاہم ایران اور سوڈان دونوں نے پکڑے گئے اسلحہ بردار بحری جہاز سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔

اکتوبر 2011ء میں سوڈان نے خرطوم میں ایک فوجی فیکٹری میں ہونے والے بم دھماکوں کا الزام اسرائیل پرعائد کیا تھا، جو اس امر کا اشارہ تھا کہ اس فیکٹری میں ایرانی اسلحہ بھی ذخیرہ کیا گیا تھا تاہم اسرائیل نے سوڈانی الزام مسترد کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں