.

سعودی عرب علاقائی حریف ایران سے مذاکرات کے لیے تیار

دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کو بات چیت سے طے کیا جاسکتا ہے:سعود الفیصل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے کہا ہے کہ ان کا ملک اپنے علاقائی حریف ایران کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لیے مذاکرات کو تیار ہے۔

انھوں نے منگل کو دارالحکومت الریاض میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ''ایران ایک ہمسایہ ملک ہے،ہمارے ان (ایرانیوں ) کے ساتھ تعلقات ہیں اور ہم ان سے بات چیت کریں گے۔اگر ہمارے درمیان کوئی اختلافات ہیں تو انھیں دونوں ممالک کے اطمینان کے مطابق طے کیا جا سکتا ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''ہمیں امید ہے ایران خطے کو محفوظ بنانے کے لیے کوشش کا حصہ بنے گا۔اس سے خطہ خوشحال ہوگا اور وہ خطے میں عدم استحکام کا سبب بننے والے مسئلے کا حصہ نہیں بنے گا''۔

سعودی وزیرخارجہ نے نیوزکانفرنس میں بتایا کہ انھوں نے اپنے ایرانی ہم منصب کو مملکت کے دورے کی دعوت دی ہے لیکن انھوں نے ابھی تک اس کا جواب نہیں دیا ہے۔تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ انھوں نے کب ایرانی وزیرخارجہ کو دعوت نامہ بھیجا تھا۔البتہ ان کا کہنا تھا کہ وہ جب چاہیں دورے کے لیے آسکتے ہیں،ہم ان کے استقبال کے منتظر ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ عارضی جوہری سمجھوتے کے بعد سے خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کویت ،قطر ،اومان اور متحدہ عرب امارات کے دورے کرچکے ہیں لیکن انھوں نے ابھی تک سعودی عرب کا دورہ نہیں کیا ہے۔

جواد ظریف نے دسمبر میں کہا تھا کہ وہ سعودی عرب کا دورہ کرنا چاہتے ہیں اور وہ سعودی مملکت سے اپیل کریں گے کہ وہ خطے میں استحکام کے لیے ایران کے ساتھ مل کر کام کرے۔

واضح رہے کہ ایران اور سعودی عرب میں متعدد علاقائی ایشوز پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔انھوں نے خاص طور پر شام میں جاری بحران کے حوالے سے ایک دوسرے کے برعکس موقف اختیار کررکھا ہے۔ایران شامی صدر بشارالاسد کی دامے ،درمے اور سخنے ہر طرح مدد کررہا ہے،انھیں اسلحہ مہیا کررہا ہے۔

سعودی عرب شامی صدر کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے مسلح تحریک برپا کرنے والے باغیوں کا حامی ہے۔اس کے علاوہ سعودی حکام ایران پرگاہے گاہے خلیجی ممالک میں عدم استحکام کی سازشوں میں ملوث ہونے کے الزامات بھی عاید کرتے رہتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ایران یمن اور بحرین میں ہونے والی گڑ بڑ میں ملوث ہے اور وہ حکومت مخالفین کی امداد کررہا ہے لیکن ایران ماضی میں ان الزامات کی تردید کرچکا ہے۔