.

قطر: تارکین وطن سے متعلق لیبر پالیسی میں مجوزہ ترامیم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی ریاست قطر نے غیرملکی تارکین وطن سے متعلق ایک مسودۂ قانون متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت غیرملکی ورکروں کے صرف ایک ہی آجر کے ہاں ملازمت کے لیے متنازعہ اسپانسر شپ نظام کا خاتمہ ہوجائے گا۔

قطر یہ اقدام غیرملکی تارکین وطن سے روا رکھا جانے والے ناروا سلوک کے خلاف انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی جانب سے تنقید کے بعد کررہا ہے۔یہ تنظیمیں اسپانسرشپ سسٹم کے خاتمے کا مطالبہ کرتی چلی آرہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ نظام ملازمین کے استحصال کا موجب ہے۔

قطری عہدے داروں نے بدھ کو دوحہ میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران اسپانسرشپ کے موجودہ ضوابط میں مجوزہ ترامیم کا اعلان کیا ہے اور وسیع تر لیبر اصلاحات کے منصوبے کا خاکہ پیش کیا ہے۔

واضح رہے کہ قطر میں اس وقت قریباً چوراسی ہزار غیرملکی خواتین گھریلو خادماؤں کے طور پر کام کررہی ہیں۔ان کے علاوہ ہزاروں تارکین وطن مختلف نوعیت کے کام کررہے ہیں۔ان میں سے زیادہ تر کا تعلق جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا سے ہے۔موجودہ قانون کے تحت ان کا روزگار اور رہائش کسی خاص آجر کے مرہون منت ہوتے ہیں اور وہ اس کی مرضی کے بغیر نہ تو ملک سے باہر جاسکتے ہیں اور نہ اپنی ملازمت کو تبدیل کرسکتے ہیں۔

دوسرے خلیجی ممالک میں بھی اسی طرح کا اسپانسرشپ نظام رائج ہے لیکن وہاں غیرملکی ورکروں کو قطر کی طرح بیرون ملک جانے کے لیے کلیئرینس نہیں لینا پڑتی ہے۔تیل اور قدرتی گیس کی دولت سے مالا مال عرب خلیجی ریاستوں میں زیادہ تر ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کام کررہے ہیں۔انھیں بالعموم ان کے کام کے مقابلے میں کم اجرتیں دی جاتی ہیں،ان کے آجر ان کے پاسپورٹس ضبط کرلیتے ہیں اور انھیں بآسانی ملک چھوڑنے نہیں دیتے۔

قطر کے مجوزہ قانون کے تحت غیرملکی ورکروں کو ان کے بیرون ملک جانے کے لیے درخواست کے بعد 72 گھنٹے کے اندر خروج کا اجازت نامہ از خود ہی مل جایا کرے گا۔موجودہ نظام کے تحت ورکروں کو اپنے آجر کو تبدیل کرنے کے لیے کمپنی کی رضامندی کی ضرورت ہوتی ہے،اب اس کو روزگار کے معاہدے سے تبدیل کردیا جائے گا۔البتہ اس میں یہ تحدید بھی موجود ہوگی کہ وہ کتنی جلد ملک سے باہر جاسکتے ہیں۔

اس مجوزہ منصوبے کی قطری کابینہ نے منظوری دے دی ہے۔اب اگر شوریٰ کونسل اور دوسرے اداروں نے اس کی منظوری دے دی تو یہ قانون بن جائے گا۔تاہم قطری عہدے داروں نے یہ نہیں بتایا کہ اس مجوزہ نئی پالیسی پر کب سے عمل درآمد کیا جائے گا۔وزارت داخلہ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد احمد العتیق کا کہنا تھا کہ نئے مجوزہ قوانین کا تمام غیرملکی تارکین وطن پر اطلاق ہوگا۔ان میں گھریلو خادمائیں اور سرکاری ملازمین بھی شامل ہوں گے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مجوزہ اصلاحات میں سے بعض کو مثبت قراردیا ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ غیرملکی تارکین وطن کے منظم استحصال کے خاتمے کے لیے قطر کو ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

اس تنظیم کے خلیج میں تارکین وطن پر تحقیق کرنے والے ایک محقق جیمز لنچ کا کہنا ہے کہ ''حکومت یہ تو دعویٰ کررہی ہے کہ وہ اسپانسرشپ کا خاتمہ کررہی ہے لیکن یہ تو بظاہر مربوط اصلاحات کے بجائے محض نام کی تبدیلی ہی نظر آرہا ہے''۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ خروج کے اجازت نامے کے نظام میں کی جانے والی مجوزہ تبدیلیاں بھی واضح نہیں ہیں اور آجر کے لیے اس امکان کو کھلا چھوڑدیا گیا ہے کہ وہ ملک سے باہر جانے کے خواہاں ملازمین پر اعتراض کرسکے۔ان کا کہنا تھا کہ اسپانسر شپ نظام کی محض نام کی حد تک تبدیلی کے بجائے حقیقی اور گہری وسیع البنیاد اصلاحات کرے۔

قطر 2022ء میں عالمی فٹ بال کپ ٹورنا منٹ کی میزبانی کرے گا۔عالمی کپ کی تیاریوں کے ضمن میں بھی وہ مزدور حقوق کے حوالے سے مختلف الزامات کی زد میں ہے۔اس پر نیپال سے تعلق رکھنے والے مزدوروں سے جبری مشقت لینے کے الزامات عاید کیے جا چکے ہیں اور گذشتہ موسم گرما میں ان میں سے بہت سے مزدور شدید درجہ حرارت میں کام کے دوران دم توڑ گئے تھے جبکہ انھیں کام کے مقابلے میں معاوضہ بھی کم دیا جارہا ہے۔