.

سعودی عرب: اسپتال مرس وائرس پھیلنے کے ذمے دار

اسپتالوں میں کوئی انسدادی اور احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کی جارہی ہیں:وزیرصحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے قائم مقام وزیرصحت عادل فقیہ نے اونٹوں اور اسپتالوں کو کورنا وائرس کے پھیلنے کا بنیادی سبب قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اسپتالوں میں وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کوئی انسدادی تدابیر اختیار نہیں کی جارہی ہیں۔

سعودی وزیر صحت نے جدہ میں شاہ فہد اسپتال کے حکام کے ساتھ ایک اجلاس میں شرکت کی ہے۔اس کے بعد انھوں نے بتایا کہ جدہ ،ریاض اور دمام میں کورنا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے علاج کے مرکزی مراکز قائم کیے گئے ہیں لیکن ان کے علاوہ بھی ہر علاقے میں بہت سے اسپتالوں میں کورنا وائرس کے مریضوں کے علاج کا بندوبست کیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ غیر ملکی کمپنیوں سے مل کر اس مہلک وائرس سے متاثرہ مریضوں کے علاج کے لیے ویکسین کی تیاری کے ضمن میں تعاون کیا جارہا ہے لیکن اس میں ابھی وقت لگے گا۔

ان سے جب سوال کیا گیا کہ کورنا وائرس کے مریضوں کو کب جدہ کے نزدیک واقع شاہ عبداللہ میڈیکل کمپلیکس میں منتقل کیا جائے گا تو ان کا کہنا تھا کہ جب تک یہ اسپتال مرس کے علاج کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں ہوجاتا،اس وقت مریضوں کو وہاں منتقل نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ عالمی ادارہ صحت کے علاوہ دیگر اداروں کے ماہرین بھی وائرس کی تشخیص اور علاج کے لیے تحقیقات کررہے ہیں۔سعودی عرب میں اس مہلک وائرس سے مزید پانچ افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں جس کے بعد 2012ء میں اس وائرس کے نمودار ہونے کے بعد مرنے والوں کی تعداد ایک سو باون ہوگئی ہے۔

سعودی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ مرس سے متاثرہ چار اور مریض رجسٹر کیے گئے ہیں اور اس کے مریضوں کی کل تعداد چارسو پچانوے ہوگئی ہے۔وزارت نے مزید بتایا ہے کہ سارس کی طرح کے اس وائرس کا شکار ہونے والے چار مریض تندرست ہوگئے ہیں۔

درایں اثناء وزارت صحت کے ترجمان خالد مرغلانی نے ان میڈیا رپورٹس کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ کورنا وائرس کا شکار ہوکر مرنے والے مریضوں کی تدفین کے لیے الگ قبرستان مختص کیا گیا ہے۔

ایک عربی روزنامے نے یہ اطلاع دی تھی کہ کورنا وائرس سے موت کے منہ میں چلے جانے والے ایک شخص کے خاندان کو اس کی تدفین میں مشکلات کا سامنا ہے۔متوفی کے بھائی محمد حولی نے اس اخبار کو بتایا کہ انھیں ان کے بھائی کی میت ایک پلاسٹک شیٹ میں لپٹی ہوئی ملی تھی اور انھیں مرحوم کا بوسا بھی نہیں لینے دیا گیا۔انھوں نے مزید بتایا کہ انھیں یہ کہا گیا تھا کہ جدہ میں صرف دوقبرستانوں میں کورنا وائرس کے متوفیوں کی تدفین کی جاسکتی ہے۔