ہسپانوی فرمانروا کی سرکاری دورے پر سعودی عرب آمد

دورے کا مقصد دو طرفہ تعلقات کو مستحکم کرنا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسپین کے فرمانروا خوان کارلوس اپنے تین روزہ سرکاری دورے پر آج ہفتے کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پہنچ رہے ہیں۔ ان کے اس دورے سے دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جدہ ہوائی اڈے پر پہنچنے پرسعودی عرب کی اہم شخصیات ہسپانوی مہمانوں کا استقبال کریں گی جس کے بعد وہ سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز اور ملک کی سیاسی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔


ریاض میں ڈپلومیٹک انسٹیٹٰوٹ سے وابستہ اسپانوی زبان کے استاد ڈاکٹر حمدان الشمری نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ہسپانوی فرمانروا کے دورہ سعودی عرب کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ خوان کارلوس کا دورہ دونوں ملکوں کے تاریخی دوستانہ تعلقات کا عکاس ہے۔ ریاض اور میڈریڈ کے درمیان دوستانہ تعلقات قابل فخر مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔

ڈاکٹر الشمری نے بتایا کہ خوان کارلوس کا خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کا سعودی عرب کا اقتدار سنھبالنے کے بعد ریاض کا دوسرا دورہ ہے۔ ان کے حالیہ دورے میں وزیر دفاع، وزیر برائے صنعتی ترقی و توانائی، وزیر سیاحت، وزیر مملکت برائے خارجہ امور، وزیر تجارت، اسپانوی چیمبر آف کامرس کے اہم عہدیدار، تاجر، سرمایہ کار، صنعت کار اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہرین بھی سعودی عرب پہنچ رہے ہیں۔ اس اعتبار سے ہسپانوی فرمانروا کا دورہ سعودی عرب نہایت اہمیت کا حامل ہے۔


اس سوال کے جواب کہ سعودی عرب اور اسپین کس نوعیت کے باہمی تعاون پر بات چیت کریں گے تو ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کی دو طرفہ تجارت، سیاحت کے فروغ، علاقائی اور عالمی سیاسی مسائل اور دو طرفہ اہمیت کے حامل ایشوز پر نہ صرف تبادلہ خیال ہو گا بلکہ کئی اہم معاہدے بھی متوقع ہیں۔ سعودی عرب اور اسپین دونوں ایک دوسرے کے سرمایہ کاروں اور ماہرین سے استفادے کے خواہاں ہیں۔ اس دورے سے دو طرفہ سرمایہ کاری کے فروغ کو ایک نیا موقع ملے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب اور اسپین کے درمیان دوستی کا عرصہ ساٹھ سال پر محیط ہے۔ دونوں ملکوں کی تاریخی اور تہذیبی روایات میں کئی قدریں مشترک ہیں اور عالمی مسائل کے بارے میں ریاض اور میڈریڈ کے خیالات میں بھی یکسانیت موجود ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں