.

"ایران سے تعلقات کا راستہ خلیج سے گذرتا ہے"

خلیجی ممالک پر حملہ مصر پر حملہ تصور ہو گا: السیسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے دبنگ صدارتی اُمیدوار فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ مغرب اور مصر کے درمیان دوستانہ تعلقات صدارتی انتخابات کے بعد معمول پرآ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ تعلقات کا راستہ خلیج سے ہو کر گذرتا ہے۔ خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان تعلقات قاہرہ اور تہران کو ایک دوسرے کے قریب کر سکتے ہیں۔

فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی نے ان خیالات کا اظہار العربیہ نیوز چینل کے برادر ٹیلی ویژن "الحدث" کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا۔ سینئر اینکر پرسن نجوی قاسم کو دیے گیے مفصل انٹرویو میں جنرل السیسی نے شام کی موجودہ صورت حال، مسئلہ فلسطین، مصر کے صدارتی انتخابات، عرب ممالک میں جاری بغاوت کی تحریکوں، مصر کے مغرب اور روس کے ساتھ تعلقات اور لیبیا میں جاری سیاسی اور سیکیورٹی بحران پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صرف تیس ملین لوگوں کا صدارتی انتخابات میں ووٹ ڈالنا کافی نہیں ہے۔ ملک کو جس تبدیلی سے گزرنا ہے اس کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ میں وطن عزیزکو تمام مسائل سے نجات دلانے کے لیے پوری مستعدی سے کام کر رہا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ تعلقات کی بحالی کا راستہ خلیجی ممالک سے گذرتا ہے۔ لیبیا کی موجودہ سیاسی کشیدگی کے بارے میں جنرل السیسی نے کہا کہ کرنل قذافی کے اقتدار کے خاتمے بعد لیبیا کی ریاست بھی سقوط کا شکار ہوئی ہے۔ مغرب اور عالمی برادری نے لیبیا میں کرنل قذافی کو ہٹانے کے بعد مشن ادھورا چھوڑا جس کے نتیجے میں آج وہاں سنگین بحران ہے۔

انہوں نے کہا کہ مصری عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کے جس عزم کا اظہار کیا ہے اسے قائم رہنا چاہیے۔ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ مصر میں امن وامان کی تازہ صورت حال ماضی کی نسبت بہت بہتر ہے۔ ملک میں اب سیکیورٹی کا کوئی بحران نہیں رہا ہے۔ اس لیے میں مصری عوام سے کہوں گا کہ وہ صدارتی انتخابات میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیں۔ جس طرح بیرون ملک مصری عوام نے صدارتی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالےہیں۔ اسی طرح اندرون ملک بھی عوام کو باہر نکلنا ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تیس جون 2013ء کو عوام نے مجھ پراعتماد کیا اور میں عوام کے بھروسے پر پورا اتروں گا۔ میں عوام کی اکثریت کا نمائندہ ہوں، صدر منتخب ہونے کے بعد ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ خصوصی اہمیت دوں گا۔

مصر میں عوامی مظاہروں سے متعلق قانون پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام کو قانونی ضابطے کے اندر رہتے ہوئے اظہار رائے کی آزادی ہونی چاہیےلیکن مظاہروں کی آڑ میں ملک کو تباہ کرنے کی سازش کی اجازت بھی نہیں دی جا سکتی۔ الحدث کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے مصرکی سیاسی جماعتوں کو بھی آڑے ہاتوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے مصری نوجوانوں کو اپنے مخصوص مقاصد کے لیے تو استعمال کیا مگران کی خواہشات کی کوئی قدر نہیں کی۔

لیبیا کا بحران

لیبیا میں جاری حالیہ سیاسی و سیکیورٹی بحران کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی نے کہا کہ "لیبیا میں کرنل معمر قذافی کی حکومت تو ختم ہوئی مگراس کے ساتھ ملک بھی ہاتھوں سے نکلتا دکھائی دے رہا ہے۔ لیبیا کے موجودہ خراب حالات کی ذمہ داری مغربی طاقتوں پرعائد ہوتی ہے جنہوں نے کرنل قذافی کے بعد ملک کو انارکی کی حالت میں چھوڑ دیا۔ یہ عالمی برادری کی ذمہ داری تھی کہ وہ کرنل قذافی کے بعد لیبیا میں مکمل قیام امن اور عسکری گروپوں کو غیرمسلح کرنے تک اپنا مشن جاری رکھتا"۔

انہوں نے کہا کہ لیبیا میں عسکری گروپوں کے زیراستعمال اسلحہ اب مصر میں عسکریت پسندوں کو اسمگل کیا جا رہا ہے لیکن مغربی طاقتیں اس بارے میں بالکل بے فکر ہیں۔ انہوں نے عرب ممالک اور مغربی ملکوں پر زور دیا کہ وہ مل کر لیبیا کے بحران کے حل میں مدد فراہم کریں اور ملک کو عسکریت پسندوں سے نجات دلائیں۔

انٹرویو میں انہوں نے جزیرہ نما سیناء میں سیکیورٹی کے معاملات پربھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش سیکیورٹی چیلنج مصری تاریخ کا بدترین بحران تھا لیکن بہادر مسلح افواج نے اس پر قابو پا لیا ہے۔

فلسطین اور خلیج

ایک سوال کے جواب میں فیلڈ مارشل السیسی نے کہا کہ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ مصر نے فلسطینیوں کے لیے سب سے زیادہ قربانیاں دیں۔ دوسری طرف کے فریقین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی غلطیوں کی اصلاح کریں۔ ان کا اشارہ فلسطینی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت"حماس" کی جانب تھا۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کی صفوں میں اتحاد مصر کے بھی مفاد میں ہے۔ ہم فلسطینی دھڑوں میں اتحاد کی کوششیں جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے نہایت مناسب ہیں۔ مسئلہ فلسطین کو فلسطینیوں کی امنگوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔

خلیجی ممالک اور مصر کے درمیان دوستانہ تعلقات کے بارے میں عبدالفتاح السیسی نے کہا کہ مصر کی سلامتی خلیجی ممالک کی سلامتی سے وابستہ ہے۔ خلیجی ممالک کو درپیش خطرات کم ہوئے ہیں مگر سیکیورٹی چیلنجز اب بھی برقرار ہیں۔

فیلڈ مارشل السیسی نے کہا کہ خلیجی ممالک کے امن وسلامتی پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔ اگر کسی خلیجی ملک کو باہر سے خطرہ درپیش ہوا تو مصری فوج دفاع کے لیے ہمہ وقت تیار ہو گی۔

ایران کے ساتھ تعلقات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ تہران اور قاہرہ کے درمیان تعلقات کے راستے خلیج سے گذرتے ہیں۔ اگر ایران خلیجی ممالک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے تویہ ہمارے لیے بھی خطرہ ہی ہے۔ اس کےباوجود تہران کے ساتھ عادلانہ تعلقات کے قیام کی مساعی بھی جاری رکھی جائیں گی۔

شام کے بحران کے بارے میں مصر کے سابق فوجی سربراہ عبدالفتاح السیسی نے کہا کہ "میرے خیال میں شام کا خطرناک پہلو اس کی تقسیم کی سازش ہے۔ ہمیں کسی صورت میں شام کی تقسیم قبول نہیں۔ ہم شام میں غیرملکی فوجی مداخلت کے حامی ہیں اور نہ ہی اسے دوسرا افغانستان بننے دیں گے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ شام میں عوامی بغاوت کی تحریک کو دہشت گردی کی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہیے۔ میں شام کے تمام عسکری اور سیاسی گروپوں سے مطالبہ کروں گا کہ وہ شامی اپوزیشن کی چھتری تلے جمع ہو جائیں۔ جنرل السیسی نے کہا کہ شام کے بحران کے حل سے خطے میں امن و سکون کی بحالی کی راہ ہموار ہوگی۔

مغرب سے تعلقات

منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی فوج کے ہاتھوں برطرفی کے بعد قاہرہ کے امریکا کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کے بارے میں سوال کے جواب میں فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی نے کہا کہ "واشنگٹن کوآہستہ آہستہ یہ ادراک ہو جائے گا کہ مصرمیں جو تبدیلی آئی ہے وہ عوام کا فیصلہ ہے۔ میں امریکیوں پر زور دوں گا کہ وہ مصر کے معاملات کو مصری عوام کی نظروں سے دیکھنے کی کوشش کریں۔

یورپی ملکوں کے ساتھ مصر کے تعلقات کے باب میں انہوں نے کہا کہ تین جون کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد قاہرہ اور یورپ کے مابین تعلقات بہتر ہو جائیں گے۔ انہوں نے روس کے ساتھ بھی غیرمشروط تعلقات کی بات کی۔ جنرل فتاح السیسی نے کہا کہ روس کے ساتھ ہمارے تعلقات کسی ملک کی حمایت یا مخالفت کے ساتھ جڑے ہوئے نہیں ہیں۔ ہم پوری عالمی برادری سے متوازن تعلقات رکھنا چاہتے ہیں۔