لندن: مارشل آرٹس کا ماہر ڈاکو، رولیکس لے بھاگا

روشنیوں کے شہر میں پولیس کو وارداتوں کے عینی شاہدین کی تلاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لندن کو عام طور پر محفوظ ترین شہروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے ۔ لیکن قتل کی انوکھی وارداتوں، مارکیٹوں پر حالیہ برسوں کے حملے اور لوٹ مار کے واقعات کے علاوہ اماراتی خاندانوں کے ساتھ تشدد کے واقعات اور اب لندن کے جیتے جاگتے شہر میں طالبعلم سے اس کی قیمتی رولیکس چھینے کی واردات نے سب کو حیران کر دیا ہے کہ لندن میں جرائم پیشہ کس قدر ہوشیار ہیں۔

لندن پولیس نے اس انوکھی واردات کی فوٹیج جاری کی ہے جس میں ایک شخص ایک راہ چلتے طالبعلم کو روک کر پہلے اس سے سگریٹ مانگتا ہے اور پھر تمباکو نوشی کی مشترکہ ذوق سے بات آگے بڑھاتے ہوئے مارشل آرٹس کے بارے میں گفتگو شروع کر دیتا ہے۔

راہزن 24 سالہ طالبعلم کو مارشل آرٹ کی ایک مدافعتی ٹیکنیک کا مظاہرہ کرنے کی پیش کش کرتا ہے۔ بلاشبہ دونوں کے درمیان سگریٹ سے شروع ہونے والی بات چیت اعتمادی سازی کا کام کر چکی تھی۔

وہ طالبعلم کو جھکنے کیلیے کہتا ہے اور اپنے بازو اس کی گردن کے گرد حمائل کر دیتا ہے اور پھر اپنے بازووں سے طالبعلم کی گردن کو بھینچ دیتا ہے۔ طالبعلم اس حرکت سے نیم بے ہوش ہو کر زمین پر گر جاتا ہے۔

اس کے بعد راہزن نے طالبعلم کی کلائی پر بندھی پانچ ہزار پاونڈ کی مالیت کی رولیکس گھڑی اتاری اور فرار ہو گیا۔ سراغ رساں دس مئی سے اس انوکھی واردات ک عینی شاہدوں کی تلاش میں ہیں ۔

اس نوعیت کی رہزنی کی واردات اس سے پہلے دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ واضح رہے روشنیوں کے شہر لندن میں یہ واردات دس مئی کو علی الصبح تین بج کر پینتیس منٹ پر پیش آئی۔ لیکن دن دیہاڑے پاکسانی شہری عمران فاروق کے قتل کی کئی سال پہلے ہونے والی واردات کے سلسلے میں بھی لندن پولیس ابھی تک کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں