.

ایران میں سرگرم 55 کمپنیوں پر اسرائیل سے تعلقات کا الزام

مجلس شوریٰ کے رکن کا اسرائیلی فرموں کی تحقیقات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی مجلس شوریٰ [پارلیمنٹ] کے ایک اہم رکن نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں مختلف شعبوں میں سرگرم 55 بڑی کمپنیاں بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر اسرائیل کے لیے کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے سیکیورٹی، انٹیلی جنس اور وزارتِ خارجہ سے اسرائیل کی معاونت کرنے والی فرموں کے بارے میں مکمل تحقیقات کے بعد اس کی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

ایرانی رُکن شوریٰ مصطفیٰ افضلی نے پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران کہا کہ ''میرے علم میں یہ بات آئی ہے کہ ملک بھر میں 55 کمپنیاں براہ راست یا بالواسطہ طور پر اسرائیل کی خدمت میں سرگرم ہیں۔ ان میں سے کچھ کمپنیاں اسرائیلی کمپنیوں کی ذیلی شاخیں ہیں جبکہ بعض دوسری بالواسطہ طور پر ان کی مدد کر رہی ہیں"۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی"فارس" کی رپورٹ کے مطابق رکن پارلیمنٹ مصطفیٰ افضلی کے مطالبے پر"کمیٹی نمبر90" کے ترجمان نے اسرائیل سے تعاون کرنے والی کمپنیوں کی موجودگی کا سراغ لگانے کا یقین دلایا تاہم وہ اس ضمن میں کوئی رپورٹ پیش نہیں کر سکے ہیں۔ یہ کمیٹی سلامتی، سیکیورٹی اور وزارت خارجہ کے خلاف کسی بھی قسم کی شکایت کے ازالے کے کی ذمہ دار سمجھی جاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی مجلس شوریٰ کے ایک حالیہ اجلاس میں رُکن شوریٰ مصطفیٰ افضلی نے کہا کہ "ہم نے وزارت خارجہ، قومی سلامتی اور انٹیلی جنس وزارتوں کے حکام سے رابطہ کر کے انہیں بتا دیا ہے کہ ملک میں اسرائیل نواز کمپنیوں کی موجودگی نہایت خطرناک ہے۔ ان خبروں کی مکمل چھان بین کی جائے۔ ابھی تک ہمیں متعلقہ محکموں کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا ہے۔ ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا کون کون سی کمپنیاں اسرائیل کے لیے کام کر رہی ہیں۔

خیال رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان تجارتی، سفارتی اور ہر قسم کے تعلقات سنہ 1979ء کے انقلاب کے بعد مکمل طور پر ختم ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی روابط اس وقت ختم ہوئے تھے جب تہران نے تنظیم آزادی فلسطین [پی ایل او] کو فلسطینیوں کی نمائندہ تنظیم قرار دیتے ہوئے اپنے ہاں فلسطینی سفارت خانہ قائم کر لیا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں ایرانی رکن شوریٰ کا کہنا تھا کہ وزارت خارجہ اور قومی سلامتی کے اداروں کی جانب سے ملک میں "صہیونی" کمپنیوں کی موجودگی کی تحقیقاتی رپورٹ جمع نہ کرایا جانا افسوسناک ہے۔ مسلسل نشاندہی اور مطالبے کے باوجود تاخیر کی جاتی رہی جس کے باعث اب وقت ہاتھ سے نکل گیا ہے۔ اس کے باوجود وہ اسرائیل نواز کمپنیوں کے خلاف مکمل تحقیقات کے منتظر ہیں۔

ایران اور اسرائیل ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں بالواسطہ طور پر مداخلت کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں، لیکن اتنی بڑی تعداد میں اسرائیلی کمپنیوں کی موجودگی کا دعویٰ پہلی مرتبہ سامنے آیا ہے۔ سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے دور حکومت میں بھی اسرائیل کی بعض کمپنیوں کی ایران میں سرگرمیوں کی خبریں آتی رہی ہیں لیکن صدر احمدی نژاد کے اسرائیل کی مخالف بیانات بھی ریکارڈ پر ہیں۔ انہوں نے متعدد مرتبہ اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی بات کی اور جرمنی کےنازیوں کے ہاتھوں یہودیوں کے قتل عام جسے وہ"ہولو کاسٹ" کا نام دیتے ہیں کو بھی مشکوک قرار دیا تھا۔