عراق خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہا ہے: سعود الفیصل
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل کا کہنا ہے کہ عراق کی صورت حال سے خانہ جنگی کے اشارے مل رہے ہیں۔
اسلامی ملکوں کی تنظیم 'او آئی سی' کے وزراء خارجہ کی جدہ میں ہونے والی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہزادہ سعود الفیصل نے کہا کہ مملکت سعودی عرب خطے کی صورتحال سے متعلق اپنے مسلمہ موقف پر قائم ہے۔
یاد رہے سعودی عرب کی کابینہ نے سوموار کے روز اپنے اجلاس میں وہاں کے حکمرانوں کی فرقہ وارانہ پالیسیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ گذشتہ کئی برسوں سے جاری عراقی پالیسیوں نے ملک کے امن، استحکام اور آزادی کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے.
کابینہ کے اجلاس کے بعد عبدالعزیز خوجہ نے سرکاری خبررساں ادارے سعودی پریس ایجنسی [ایس پی اے] سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر عراق میں گذشتہ برسوں کے دوران فرقہ وارانہ اور دیوار سے لگانے کی پالیسیوں کو اختیار نہ کیا جاتا تو حال ہی میں رونما ہونے والے واقعات پیش نہ آتے۔ ان پالیسیوں نے عراق کی سلامتی، استحکام اور خود مختاری کو خطرات سے دوچار کردیا ہے۔
سعودی حکومت نے عراق کے داخلی امور میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت کو مسترد کردیا ہے اور اس کی خود مختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اس کے علاوہ اس نے عراق میں جلد سے جلد قومی اتحاد کی حکومت تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ملک میں سکیورٹی اور استحکام کو بحال کیا جا سکے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ ''حکومت نے عراقی شہریوں کے تحفظ اور ان کی مشکلات کم کرنے کے لیے ہر ممکن کوششیں کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور پڑوسی ملک میں مذہبی اور فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی پر مبنی پالیسیوں سے بھی گریز کا مشورہ دیا ہے''۔
-
سعودی عرب: عراق میں فرقہ وارانہ پالیسیوں کی مذمت
خانہ جنگی کا شکار ملک کے داخلی امور میں بیرونی مداخلت مسترد
بين الاقوامى -
سعودی وزیرخارجہ کا عراق کو فرقہ وارانہ انتہا پسندی پر انتباہ
گذشتہ دوہفتے سے عراقی سُنیوں کے مظاہروں کے بعد پہلا بیان
بين الاقوامى -
عراق اور سعودی عرب قیدیوں کے تبادلے کے نئے معاہدے پرمتفق
پھانسی کی سزا پانے والے کے معاملے پر مذاکرات جاری ہیں
بين الاقوامى -
نوری المالکی کا سعودی عرب پر باغیوں کی پشتی بانی کا الزام
ریاض کو دہشت گرد گروپوں کے خطرناک جرائم کا ذمے دار ٹھہرایا جانا چاہیے
مشرق وسطی