.

داعش نے عراق و شام کی 1932ء کی سرحدی لکیر مٹا دی

اہم سرحدی چوکی پر قبضہ، بغداد میں شیعہ ملیشیا کا گشت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش سے تعلق رکھنے والے سنی عسکریت پسندوں نے عراق اور شام کی سرحد پر قائم ایک چوکی پر بھی قبضہ کر کے 1932ء کی نو آبادیاتی طاقتوں کی طرف سے کھینچی گئی سرحدی لکیر ختم کر دی ہے۔

اسلامی ریاست عراق و شام کے نام سے کام کرنے والی تنظیم ’’داعش‘‘ عراق اور شام کو ایک ہی اسلامی مملکت بنانے کے لیے کوشاں ہونے کی دعویدار ہے اور بحر متوسط سے ایران تک اسلامی مملکت کا خواب رکھتی ہے۔

داعش کے عسکریت پسندوں نے اس سے پہلے جمعہ کے روز قریبی قصبے قائم پر قبضہ کیا ۔ بعد ازاں سکیورٹی فورسز کو پسپائی پر مجبور کرتے ہوئے آس پاس کی چوکیوں پر قبضہ کر لیا۔

دوسری جانب انسداد دہشت گردی کے لیے قائم کی گئی کمانڈ کے میڈیا ایڈوائزر سمیر الشیوالی نے بتایا ہے کہ عراقی فوج اب بھی قائم میں موجود ہے۔

واضح رہے قائم کا قصبہ عراق اور شام کے درمیان اہم تذویراتی جگہ ہونے کے ساتھ تجارتی نقل و حمل کے لیے بھی غیر معمولی حیثیت کا حامل ہے۔ شام کی تین سالہ خانہ جنگی کے دوران اس کے مشرق میں شامی علاقہ البو کمال کراسنگ بھی جنگجووں کے قبضے میں آچکا ہے۔

عراق میں ان دنوں جاری لڑائی فرقہ وارانہ حیثت اختیار کر چکی ہے۔ جبکہ کردوں نے شمال مشرقی علاقے میں اپنی گرفت مضبوط بناتے ہوئے تیل پیدا کرنے والے اہم شہر ’’کرکوک‘‘ پر بھی قبضہ جما لیا ہے۔

دوسری جانب سنیوں نے مغربی علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔ اس صورت حال میں شیعہ اکثریت کی حامل حکومت نے خط اول پر باغیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے رضاکار بھیجنا شروع کر دیے ہیں۔

صدر اوباما نے عراقی حکومت کو امریکی خصوصی فورسز کے تین سو اہلکار مدد کے لیے دینے کی پیش کش کی ہے۔ تاہم فضائی حملوں کی درخواست ابھی زیر التوا رکھی ہوئی ہے۔

بغداد میں شیعہ اکثریتی علاقوں میں ہزروں افراد یونفارم پہنے گلیوں میں گشت کر رہے ہیں۔ یہ غیر معمولی طور پر مسلح ہیں۔