شاہ عبداللہ: سعودی عرب کے دفاع کے لیے اقدامات کی ہدایت
عراق میں جاری شورش پسندی کے تناظر میں سعودی سلامتی کی صورت حال پرغور
سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے پڑوسی ملک عراق میں جاری گڑبڑ کے تناظر میں دہشت گردی کی ممکنہ کارروائیوں سے نمٹنے اور مملکت کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کی ہدایت کی ہے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کی رپورٹ کے مطابق الریاض میں''شاہ عبداللہ کے زیرصدارت قومی سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا ہے جس میں عراق میں رونما ہونے والے واقعات اور ان کے مضمرات پر غور کیا گیا ہے''۔
شاہ عبداللہ نے ہدایت کی ہے کہ'' دہشت گرد تنظیموں کی ممکنہ کارروائیوں اور ملک کو نقصان پہنچانے کے درپے دوسرے گروپوں کے مقابلے میں سعودی عرب کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں اور قابل فخر سعودی عوام کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے''۔
سعودی عرب کی سرحد عراق کے ساتھ ملتی ہے اورعراق کے شمالی شہروں میں وزیراعظم نوری المالکی کی فوج کے خلاف القاعدہ سے وابستہ داعش کے جنگجوؤں کی فتوحات کے تناظر میں یہ کہا جارہا ہے کہ اس لڑائی کے اثرات سعودی مملکت میں بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔عراق میں سنی مسلح مزاحمت کاروں ،قبائل اور داعش کی بغاوت کو شیعہ وزیراعظم نوری المالکی کی فرقہ وارانہ پالیسیوں کا شاخسانہ قراردیا جارہا ہے۔
گذشتہ ہفتے سعودی عرب نے بغداد حکومت کی اہل سنت کو دیوار سے لگانے اور فرقہ وارانہ پالیسیوں کی مذمت کی تھی اور وہاں قومی اتحاد کی حکومت تشکیل دینے پر زوردیا تھا مگر نوری المالکی نے اندرون اور بیرون ملک سے قومی اتحاد کی حکومت تشکیل دینے کے مطالبات کو مسترد کردیا ہے اور اقتدار چھوڑنے سے انکار کردیا ہے۔انھوں نے دولت اسلامی عراق وشام کی بغاوت کو کچلنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
لیکن عراق کی موجودہ صورت حال پر کڑی نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں اور عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ عراقی فوج داعش کے جنگجوؤں کو مستقبل قریب میں شمالی شہروں سے پسپا کرتی نظر نہیں آتی ہے اور وہ گذشتہ پندرہ روز کے دوران میدان جنگ میں ہونے والی شکستوں کو بہت جلد فتوحات میں تبدیل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہے۔
-
عراق کی صورتحال، جان کیری سعودی عرب جائیں گے
کیری خادم حرمین الشریفین شاہ عبداللہ سے ملاقات کریں گے
مشرق وسطی -
سعودی عرب: عراق میں فرقہ وارانہ پالیسیوں کی مذمت
خانہ جنگی کا شکار ملک کے داخلی امور میں بیرونی مداخلت مسترد
بين الاقوامى -
مالکی کے الزامات، یو اے ای نے عراق سے سفیر واپس بلا لیا
سعودی عرب کی حمایت میں امارات کے عراق سے سفارتی تعلقات عارضی طور پر منقطع
بين الاقوامى -
عراق: نامعلوم طیاروں کی داعش کے ٹھکانوں پر بمباری
عراق کے شمالی شہر القائم میں نامعلوم جنگی طیاروں نے دولت اسلامی عراق وشام (داعش) ...
مشرق وسطی -
داعش کو کس قدر حمایت حاصل ہے؟
اردن کے جنوبی شہر معان میں گذشتہ جمعہ کی نماز کے بعد 20 سے 30 افراد کتبوں اور ...
سیاست -
سوشل میڈیا میں داعش کی فتوحات کیسے ممکن ہوئیں؟
القاعدہ سے مرعوب دولت اسلامی عراق و شام 'داعش' کے جنگجو عراق اور شام کے متعدد ...
ایڈیٹر کی پسند