حشیش رکھنے کی پاداش میں محمد مرسی کے بیٹے کو سزا

عبداللہ مرسی قید اور جرمانے کی سزا کے خلاف اپیل کر سکتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کی ایک عدالت نے معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے بیٹے اور اس کے دوست کو حشیش رکھنے اور استعمال کی پاداش میں ایک سال قید با مشقت سنائی ہے۔

انیس سالہ عبداللہ مرسی اور اس کے ایک دوست کی گاڑی میں اسی سال یکم مارچ کو حشیش برآمدگی کے بعد گرفتار کر لیا گیا۔ حشیش برآمدگی کے وقت ان کی گاڑی جنوبی قاہرہ کے قلیوبیہ صوبے میں کھڑی تھی۔

دونوں کو گرفتاری کے اگلے روز اس شرط پر رہائی ملی کہ وہ تفتیش میں مدد دینے کے لئے پیشاب کے نمونے دیں گے، جنہیں استغاثہ کے بقول ٹیسٹ کرایا گیا۔

قلیوبیہ صوبے کے شہر بنھا کی عدالت نے بدھ کے روز دونوں کو الگ الگ ایک برس قید اور دس ہزار مصری پاونڈز [$1400] جرمانے کی سزا سنا دی۔

مدعی علیھما بنھا عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق رکھتے ہیں۔

وکیل صفائی محمد ابو لیلی نے مقدمے کو 'جعلی' قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب فیصلوں پر تبصرے کی ضرورت نہیں کیونکہ پورا نظام ہی خرابی کا شکار ہے۔

ڈاکٹر محمد مرسی کی بطور صدر برخاستگی کے بعد سے حکام پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ عدلیہ کو اپنے مخالفین کو دبانے کے لئے بطور ایک آلہ استعمال کر رہے ہیں۔

محمد مرسی سمیت ان کی جماعت اخوان المسلمون کے خلاف مختلف الزامات کے تحت مقدمات چلائے جا رہے ہیں، جن میں جرم ثابت ہونے تک سزائے موت ہو سکتی ہے۔

یاد رہے محمد مرسی کے بیٹے کو سزا ایک ایسے موقع پر سنائی گئی ہے کہ جب ملک میں ان کے والد کی اقتدار سے برخاستگی کی پہلی سالگرہ [آج] جمعرات کو منائی جا رہی ہے۔ مرسی کے اقتدار پر فوجی شب خون کے بعد سے ملک مسلسل بدامنی کا شکار چلا آ رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں