.

عراق میں نمائندہ حکومت کے قیام پر امریکا، ریاض میں اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ اور امریکی صدر بارک اوباما نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ عراق میں تشدد کے خاتمے کے لئے قومی رہنمائوں کو ایک تمام عراقیوں کی نمائندہ متحدہ حکومت کے قیام کے لئے کوششیں کرنی چاہئیے ہیں۔

وائٹ ہائوس کے ایک مطابق بدھ کے روز ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے دونوں رہنمائوں نے داعش کے جنگجوئوں کی جانب سے ملک کے بڑے حصے پر قبضے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر بات چیت کی۔

دونوں عالمی رہنمائوں کا یہ رابطہ داعش کی جانب تمام مسلم ممالک میں خلافت کے قیام کے اعلان کے تین روز بعد ہوا ہے۔ صدر اوباما اور شاہ عبداللہ نے زور دیا ہے کہ عراق میں ایک متحدہ حکومت کے قیام سے عراق کی مختلف قومیتوں کو متحد ہونے کا موقع ملے گا۔

اس موقع پر امریکی صدر نے شاہ عبداللہ کی جانب سے عراقی شہریوں کی مدد کے لئے جاری کئے جانے والی 50 کروڑ ڈالر کی امداد پر بھی شکریہ ادا کیا۔

وائٹ ہائوس کے مطابق: "صدر اوباما نے سعودی عرب کی جانب سے 50 کروڑ ڈالر کی امداد کے وعدے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس امداد سے عراق میں جاری جارحیت کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے عراقیوں کے زخموں پر مرہم رکھنے میں مدد ملے گی۔ دونوں رہنمائوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ خطے میں ہونیوالی پیش رفت پر ایک دوسرے سے باہمی مشاورت جاری رکھیں گے۔"

سعودی عرب کی جانب سے پیش کی جانیوالی 50 کروڑ ڈالر کی امداد اقوام متحدہ کے توسط سے عراق میں پہنچے گی۔ سعودی عرب اور عراق کے درمیان 800 کلومیٹر طویل مشترکہ سرحد ہے۔ عراق میں اس وقت تمام علاقہ مسلکی بنیاد پر تقسیم کا شکار ہے اور اس میں سب سے بڑا حصہ شیعہ مسلمانوں اس کے بعد سنی اور پھر کرد اقلیتوں کے علاقے ہیں۔

منگل کے روز نئی عراقی پارلیمنٹ کی ہونے والی میٹنگ میں موجودہ وزیر اعظم نوری المالکی کی جگہ کسی نئے رہنما کو بطور وزیر اعظم نامزد کرنے میں ناکامی پر عراقی سنیوں اور کردوں نے پارلیمنٹ کی میٹنگ سے واک آئوٹ کر دیا تھا۔