داعش کے ساتھی تین برطانوی شہریوں کے اثاثے منجمد

تینوں نوجوانوں کو ایک ماہ پہلے ایک ویڈیو میں دیکھا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانیہ میں داعش سے منسلک ہو کر دہشت گردانہ سرگرمیوں کا حصہ بننے والے تین شہریوں کے اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں۔ تینوں برطانوی شہری نوجوان ہیں اور طالبعلمی کے دنوں سے ایک دوسرے کے دوست چلے آ رہے ہیں۔

ناصر مثنہ، ریاض خان اور راہول امین کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ ان میں سے پہلے دو برطانوی شہری کارڈیف کے رہائشی ہیں جبکہ امین ابیرڈین کا رہنے والا ہے۔ ان تینوں کو ایک روز قبل اس فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے جن پر اقتصادی پابندیوں کا اطلاق کیا گیا ہے۔

ناصر مثنہ المعروف ابو مثنہ الیمنی ایک 20 سالہ طالبعلم ہے۔ اسے پچھلے ماہ ایک آن لائن ویڈیو میں دیکھا گیا جس میں وہ مسلمانوں پر زور دے رہا ہے کہ وہ داعش میں شامل ہو کر عسکریت کا حصہ بن جائیں۔

اس ویڈیو میں اسے ابو مثنہ الیمنی کہہ رہا ہے '' لوگ جہاد کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔'' اس نے مزید کہا '' ہم نے شام کی لڑائی میں حصہ لیا ہے اور اب ہم عراق میں جہاد کی تیاری کر رہے ہیں ، اس کے بعد ہم اردن اور لبنان تک جہاد کا دائرہ آسانی سے پھیلا لیں گے۔''

ریاض خان جو کہ ابو مثنہ کا سکول سے دوست چلا آرہا ہے ،اسے بھی اس ویڈیو میں امین کے ہمراہ دیکھا گیا ہے۔ امین کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ بنگلہ دیش کا بھی شہری ہے۔

ان تینوں نوجوانوں کے اثاثہ جات کو منجمد کرنے کے لیے دہشت گردی کے خلاف برطانوی قانون کا سہارا لیا گیا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق برطانیہ کے تقریبا 400 شہری شام میں عسکریت پسندوں کے سات مل کر اسد رجیم کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

واضح رہے داعش نے حالیہ دنوں میں عراق کے شمالی حصوں پر قبضہ کر لیا ہے اور عراق و شام میں خلافت قائم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں