.

مکہ: زائرین عمرہ کی خدمت میں پیش پیش خواتین رضاکار

سعودی حلال احمر کی ڈاکٹر اور نرسیں علیل زائرین عمرہ کا مفت علاج کررہی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی انجمن حلال احمر مسجد الحرام میں رمضان المبارک کے دوران عمرہ کی سعادت کے لیے آنے والے زائرین کو مفت طبی سہولتیں مہیا کررہی ہے اور اس سلسلے میں اس کو سعودی مملکت سے تعلق رکھنے والی پانچ سو زیرتعلیم خاتون ڈاکٹروں ،نرسوں ،دیگر طبی عملے اور طالبات کی رضاکارانہ بنیاد پر خدمات حاصل ہیں۔

انجمن حلال احمر نے رمضان المبارک کے آغاز سے بہت پہلے مقامی اخبارات میں اس مضمون کا اشتہار شائع کرایا تھا کہ اس کو مسجد بیت الحرام میں روزوں کے دوران زائرین کو طبی سہولتیں مہیا کرنے کے لیے خواتین رضاکاروں کی خدمات درکار ہیں۔یہ خواتین طب کے شعبے سے وابستہ ہوں اور وہ ڈاکٹر ،فارماسسٹ ،نرسیں اور ٹیکنیشین ہوں۔

انجمن حلال احمر کی ترجمان مشعیل الشامرانی نے بتایا ہے کہ ''خواتین رضاکاروں کو مسجد حرام کے اندر پندرہ مقامات پر تعینات کیا گیا ہے اور ہر جگہ پر ایک ڈاکٹر ،ایک فارماسسٹ اور ایک نرس زائرین کی طبی خدمت کے لیے موجود ہوتی ہے۔اس طرح نوآموز ڈاکٹروں اور نرسوں کو انجمن کے ساتھ کام کرکے عملی تجربہ حاصل ہورہا ہے''۔

حلال احمر کے ساتھ مل کر یہ فلاحی کام کرنے والی رضاکار طالبات اور ڈاکٹروں نے بڑے نیک جذبات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اللہ کے مہمانوں کی عبادت سمجھ کر خدمات بجا لارہی ہیں۔شاہ عبدالعزیز یونیورسٹی جدہ سے تعلق رکھنے والی فارماکولوجی کی طالبہ رغدہ المحمدی کا کہنا تھا کہ وہ حلال احمر کے ساتھ اپنے رضاکارانہ کام کو اللہ کی رضا جوئی کا ذریعہ سمجھتی ہیں۔انھوں نے کہا کہ ''میں ایمرجنسی کے کیسوں میں پیرا میڈیکل سروسز مہیا کروں گی اور اس کا اجر اللہ سے پاؤں گی''۔

اسی جامعہ کی میڈیسن کی طالبہ حدیل خوج بھی زائرین بیت اللہ کو طبی خدمات مہیا کررہی ہیں۔انھوں نے بتایا کہ زیادہ تر زائرین جوڑوں کے درد ،سردرد ،کمزوری ،بخار ،بلند فشارخون ،ذیابیطس اور دوسری بیماریوں کی شکایات کرتے ہیں۔وہ ان مریضوں کی مسجد حرام کے اندر ہی علاج کی کوشش کرتی ہیں لیکن اگر فوری افاقہ نہ ہو اور کسی مریض کی حالت نہ سنبھلے تو پھر اس کو مکہ مکرمہ کے نزدیک واقع اسپتالوں میں منتقل کردیا جاتا ہے۔

نرسنگ کی ایک طالبہ سہیلہ بنیامین نے بتایا کہ ''میں اللہ کے مہمانوں کی خدمت کے لیے روزانہ جدہ سے مکہ مکرمہ آتی ہوں۔اس دوران مجھے کعبۃ اللہ کے قرب میں نماز ادا کرنے کا موقع بھی مل جاتا ہے''۔

اس طالبہ نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ زائرین تو طویل فاصلہ طے کرکے مکہ مکرمہ میں آئے ہیں۔اس لیے یہ میرا فرض ہے کہ میں ان کی خدمت کروں۔ان میں سے بہت سوں کے پاس شاید نجی اسپتالوں میں علاج کے لیے رقوم بھی نہ ہوں۔اس لیے ہم مسجد الحرام ہی میں ان کا علاج معالجہ کرتی ہیں اور انھیں ادویہ مہیا کرتی ہیں۔

مکہ مکرمہ کی جامعہ ام القریٰ سے تعلق رکھنے والی میڈیسن کی طالبہ حالہ سلمہ نے بتایا کہ انھیں بعض زائرین کے ساتھ بات چیت میں مشکل پیش آتی ہے کیونکہ وہ عربی اور انگریزی بول نہیں سکتے اور اپنی مقامی زبان میں گفتگو کی کوشش کرتے ہیں۔ایسی صورت حال میں ہم بالعموم ہاتھ کے اشاروں سے کام چلانے اور ان کو درپیش مسائل کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہیں۔