.

پہاڑی سینیما سے غزہ ہلاکتوں کا منظر براہ راست دیکھئے!

اسرائیلیوں نے پرانے بادشاہوں کے وحشیانہ کلچر کو زندہ کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صدیوں پہلے جفا و جبر کے عادی بادشاہ ہاتھیوں اور شیروں کے آگے غلاموں کو ڈال کر ان کے تڑپنے پھڑکنے کے وحشتناک منآظر دیکھ کر جس طرح خوش ہوتے، قہقہے برساتے اور تالیاں پیٹتے تھے آج ان کی جگہ جدید تعلیم یافتہ اسرائیلی شہریوں نے لے لی ہے۔

اس لیے اسرائیل سے اڑ کر غزہ پر بمباری کر کے عورتوں اور بچوں سمیت بڑے بوڑھوں کو خون میں نہلانے والا شاید ہی کوئی جنگی طیارہ ہو گا جس کی پرواز اور غزہ پر بمباری کے موقع پر عالمی سطح پر لاڈلی قوم اسرائیلیوں نے تالیاں نہ پیٹی ہوں گی یا قہقے نہ برسائے ہوں گے۔

ایک طرف غزہ میں فلسطینیوں کے گھروں پر بم مارے جا رہے ہوتے ہیں اور دوسری جانب سدیروت شہر کے اس عارضی پہاڑی سینیما گھر میں خوشی کے شادیانے بجائے جاتے ہیں۔

غزہ کے نزدیک اس سرحدی قصبے کے یہودی اپنے اس وحشیانہ پن کے اظہار کے لیے اپنے گھروں سے صوفے اور کرسیاں سروں پر اٹھا کر لاتے ہیں تاکہ پہاڑی کی چوٹی پر بیٹھ کر فلسطینیوں کے لاشے گرنے، اور تڑپنے کا نطارہ کر سکیں۔

یہ منظر کشی کسی فلسطینی یا عرب صحافی نے نہیں کی ہے بلکہ اس کا اعزاز ڈنمارک کے ایک صحافی کو ملا ہے کہ وہ اسرائیلیوں کے وحشیانہ پن کا حوالہ بن سکے اور دنیا کو دکھا سکے کہ اصل پولیو زدہ لوگ قابل رحم نہیں ہوتے بلکہ وہ اقوام اور ان کے پولیو زدہ ذہن ہوتے قابل رحم ہوتے ہیں ہیں جو انسانیت کو اپنے لیے بوجھ سمجھنے لگتی ہیں۔

ڈنمارک کے اس مشرق وسطی کے لیے تعینات صحافی نے اس پہاڑی ''سینیما گھر'' کی تصاویر پوری دنیا کے ساتھ شئیر کی ہیں۔

اس تصویر میں یہودی مرد و خواتین یکساں طور پر غزہ پر ہونے والی بمباری پر چہکتے ہیں اچھلتے ہیں اور ناچتے ہیں۔ کہ ان کے سامنے فلسطینیوں کے لاشے گر رہے ہیں۔ اس قصبے کے لوگ ایک دوسرے کو اس انسانی ہلاکتوں کو براہ راست دکھانے والے ''سینیما گھر تک چل کر آنے کی دعوت دیتے ہیں۔

ان تصاویر کو اسرائیلیوں کے علاوہ دوسرے لوگوں نے بھی دیکھا ہے اور اس بارے میں ٹوئٹر پر اپنے تبصروں سے نوازا ہے۔ اس موضوع پر اب تک سات ہزار ٹویٹ ہو چکے ہیں۔

ٹوئٹر کے ایک صارف کا لکھتا ہے کہ حیران ہوں کہ ''اخلاقیات کا یہ عالم ہو گا کہ انسانی قتل اور ہلاکت عوام کے لیے کھیل تماشا بن جائے گی۔''

ایک اور ٹوئٹر صارف کہنا ہے ''یہ اور کچھ نہیں بس انسانیت سے عاری حرکت ہے، اس لیے اس کا ارتکاب کرنے والے اسرائیلیوں پر کے لعنت ہے۔'' سوشل میڈیا کے ایک اور صارف نے لکھا ہے '' تصاویر میں دیکھے جانے والے لوگ ہلاکتوں کے کلچر کو عام کرنا چاہتے ہیں۔