داعش مذہب کی نمائندہ نہیں، برطانوی علماء متحرک ہو گئے

علماء نے داعش کے خلیفہ البغدادی کو کمیشن خور قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانوی مسلم علماء نے داعش کی سخت مذمت کی ہے اور اس کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک بد عنوان اور برا گروہ ہے۔

برطانوی علماء کے ایک آن لائن بیان میں برطانوی نوجوانوں کو داعش کے قریب آنے سے روکنے کے لیے جاری کیے گئے اس بیان میں کہا گیا ہے کہ '' نام نہاد خلیفہ سب سے زیادہ کمیشن اور بھتہ لینے والوں میں شمار ہوتا ہے۔ ''

اس بیان میں داعش کے وابستگان کو کرپٹ، برے اور دہشت گردوں جیسے خطاب دیے گئے ہیں۔ ان علماء کہنا ہے کہ ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر داعش کے حوالے سے جاری مہم کا توڑ کرنے کے لیے ہے جو نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے لیے جاری ہے اور جس کے ذریعے داعش غیر ملکی نوجوانوں کو اپنے خلیفہ سے متعارف کرا رہی ہے۔

علماء کے بقول داعش کا نہ مذہب سے تعلق ہے نہ ہی یہ مذہب کی نمائندگی کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں۔ ان علماء میں شیعہ تنظیم مجلس علمائے شیعہ کے سربراہ سید علی رضوی نے کہا ہے '' ہم مسلمان داعش کے خلاف متحد ہیں، کیونکہ داعش ایک دہشت گردانہ تنظیم ہے، ہم اس ظالمانہ تنظیم کے خلاف ہیں۔''

ایک سنی عالم دین رضا نے کہا بطور سنی اس کے خلیفہ کو تسلیم نہیں کرتا ہوں، میرے نزدیک داعش ایک دہشت گرد تنظیم ہے، یہ کرپشن اور فتننے کے فروغ کے لیے سر گرم ہے۔ ''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں