ایران کا رویہ حیران کن طور پر موافقانہ ہے:وائٹ ہاؤس

20 جولائی کے بعد حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات میں توسیع کا فیصلہ نہیں ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

وائٹ ہاؤس نے ایران کے چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ گذشتہ چھے ماہ میں جوہری مذاکرات کے دوران رویے کو موافقانہ قرار دیا ہے اور اس کی تعریف کی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ایرنسٹ نے بدھ کو واشنگٹن میں روزانہ کی نیوز بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ ایران کا عبوری جوہری سمجھوتے پر عمل درآمد کے لیے رویہ حیران کن طور پر موافقانہ رہا ہے لیکن ترجمان نے کہا کہ ایران اور امریکا اور اس کے مذاکراتی شراکت داروں کے درمیان ابھی فاصلے موجود ہیں اور وہ 20 جولائی کی ڈیڈ لائن سے قبل حتمی جوہری معاہدے کے لیے کام کررہے ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے سفارت کاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران اور چھے بڑے طاقتوں نے مذکورہ ڈیڈ لائن میں توسیع کے فیصلے سے اتفاق کیا ہے لیکن جوش ایرنسٹ نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے کہ ایسا کوئی فیصلہ ہوا ہے اور نہ یہ بتایا ہے کہ صدر براک اوباما اور وزیرخارجہ جان کیری اس پر کوئی تبادلہ خیال کرنے والے ہیں۔ان دونوں کے درمیان بدھ کوایران کے جوہری تنازعے پر مذاکرات کے حوالے سے ملاقات متوقع تھی۔

درایں اثناء مغربی سفارت کاروں نے رائیڑز کو بتایا ہے کہ جمعے تک مذاکرات کی ڈیڈلائن میں توسیع کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔ایران اور چھے بڑی طاقتوں سے تعلق رکھنے والے عہدے داروں نے منگل کو کہا تھا کہ ویانا میں گذشتہ دو ہفتے سے جاری مذاکرات کے باوجود حتمی جوہری معاہدے کے لیے کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی ہے اور فریقین میں ابھی بہت سے امور پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔مذاکراتی عمل میں شریک بعض سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حتمی معاہدہ طے نہیں پاتا تو پھر ستمبر میں دوبارہ مذاکرات ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں