.

عراق میں اہدافی کارروائیاں بڑھا سکتے ہیں: اوباما

اردن کے شاہ سے بھی داعش اور غزہ کی جنگ بندی پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے عندیہ دیا ہے کہ وہ عراق میں داعش کے خلاف اپنی فضائیہ کی اہدافی کارروائیوں کو وسعت دینے پر غور کر سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا داعش کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے پہلے عراق کی سیاسی جماعتوں کو باہمی تعاون کا راستہ نکالنا چاہیے۔

اپنے ایک انٹرویو میں صدر اوباما نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ''لیبیا کی مدد کے لیے کچھ زیادہ نہیں کیا جا رہا ''۔ واضح رہے صدر اوباما نے جمعرات کے روز امریکی فوج کو عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر ٹارگیٹڈ کارروائیاں کرنے کا اختیار دیا ہے۔ تاکہ شمالی عراق میں داعش کے چیلنج کو بڑھنے سے پہلے روکا جا سکے، عراق میں موجود امریکی حکام کو تحفظ دیا جا سکے اور مذہبی بنیادوں پر قتل و غارت گری کا سدباب کیا جا سکے۔

ٹائمز کے کالم نگار تھامس فرائیڈ مین کے ساتھ انٹرویو امریکی صدر اوباما نے کہا '' امریکا کو بالآخر عراقی عسکریت پسند گروپوں کو عراق پر قبضہ کرنے سے روکنے اور مار بھگانے کے لیے مزید کچھ کرنا ہو گا۔

انہوں نے کہا '' ہم داعش کو عراق اور شام میں خلافت قائم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، ہم صرف یہ تب کر سکتے ہیں جب زمین پر ہمارے شراکت دار موجود ہوں۔''

اس حوالے سے امریکی صدر نے کردوں کی تعریف کی کہ وہ اپنے نیم خود مختاری لیے ہوئے علاقے میں دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ رواداری کا برتاو کر رہے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ''میں نے اشارہ دیا ہے کہ میں عراقی ائیر فورس کا کام اپنے ذمے نہیں لے رہا۔ ''

واضح رہے صدر اوباما کو اس حوالے سے بڑھتی ہوئی تنقید کا سامنا ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی میں مداخلت کے رجحان سے ہچکچاہٹ دکھاتے ہیں۔

دوسری جانب غزہ کے حوالے سے اوباما انتظامیہ بھی جنگ بندی کی حوصلہ افزائی کرتی ہے جبکہ روس کی طرف سے یوکرین میں مداخلت کے باعث روس پر اقتصادی پابندیاں لگانے کی بات کرتی ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ روسی صدر ولادی میر پیوتن یوکرین کے معاملے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

امریکی صدر نے اس بارے میں شبہ ظاہر کیا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور فلسطینی صدر محمود عباس ایک پائیدار امن معاہدے کی طرف آ سکیں گے۔ جیسا کی اس سے پہلے مصری صدر انوارالسادات اور اسرائیلی وزیر اعظم بیگن کے درمیان طے پا گیا تھا۔

درایں اثناء امریکی صدر براک اوباما نے اردن کے شاہ عبداللہ دوم سے فون پر بات کرتے ہوئے عراقی عوام کو انسانی بنیادوں پر امداد پہنچانے پر زور دیا ہے۔

وائٹ ہاوس کی طرف سے جاری کردہ بیان ایک پریس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ '' دونوں سربراہان نے داعش کی وجہ سے خطے کے لیے موجود خطرے پر بھی تبادلہ خیال کیا اور عراق میں قومی سیاسی عمل کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ۔

واضح رہے امریکی جنگی جہاز پہلے ہی داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ صدر اوباما اور شاہ عبداللہ نے غزہ میں ایک پائیدار جنگ بندی پر تبادلہ خیال کیا۔

وائٹ ہاوس کے ترجمان جاش ایرنیسٹ نے اس حوالے سے امریکی تشویش کا ذکر کرتے ہوئے اسرائیل اور فلسطینیوں پر زور دیا کہ وہ از سر نو مذاکرات شروع کریں اور دونوں طرف کے شہریوں کو بچانے کے لیے جو کچھ کر سکتے ہیں۔