.

اقوام متحدہ کے امن فوجی گولان سے محفوظ مقام پر منتقل ہو گئے

40 فلپائنی فوجی مسلح افراد کی جانب سے محصور کر لئے گئے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ اور فلپائن کا کہنا ہے کہ شام اور اسرائیل کے سرحدی علاقے گولان میں اسلام پسند جنگجوئوں کی ہاتھوں یرغمال بنائے گئے اقوام متحدہ کے امن دستوں کے تمام فوجی محفوظ مقام پر منتقل کر دئیے گئے ہیں۔

فلپائنی فوج کے سربراہ جنرل گریگوریو کیٹاپینگ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس کارروائی کو سب سے کامیاب قرار دیا۔

فلپائنی نیوز ویب سائٹ 'انکوائرور' کے مطابق کیٹاپینگ کے مطابق"فوجیوں نے تعداد میں کم ہونے کے باوجود رات کے وقت باغیوں کے سونے کا فائدہ اٹھا کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔"

کیٹاپینگ اور دوسرے فوجی عہدیداروں کے مطابق ہفتے کے روز حملے کا شکار بننے کے بعد فلپائن سے تعلق رکھنے والے 35 امن فوجیوں کو آئرش اور فلپائنی فوجیوں نے بحفاظت بریقیہ کیمپ سے بازیاب کروا لیا تھا۔

فوجی حکام کے مطابق اس کامیاب آپریشن کے باوجود رویحانہ کیمپ میں 40 کے قریب فلپائنی فوجی پھنس کر رہ گئے تھے۔ ان فوجیوں کی جانب سے ہتھیار ڈالنے سے انکار کے بعد 100 سے زائد مسلح جنگجوئوں نے کیمپ کے دروازوں پر اپنے ٹرک لا کھڑے کئے اور کیمپ پر مارٹر گولے داغے۔

فلپائنی دارالحکومت منیلا سے گولان میں پھنسے فوجیوں کے لئے مدد بھیجنے اور تمام صورتحال کو مانیٹر کرنے والے فوجی افسر کرنل روبرٹو انکن کا کہنا ہے کہ ایک موقع پر شام کی حکومتی فوج نے کچھ فاصلے سے بمباری کی تھی تاکہ امن دستوں کو مدد فراہم کی جاسکے۔

کیٹاپینگ کے مطابق" گھرے ہونے اور تعداد میں قلت کے باوجود یہ فوجی نے سات گھنٹے تک اپنی جگہ پر جمے رہے۔ ہم بھاری فائرنگ میں بھی حوصلہ دکھانے والے فوجیوں کی تعریف کرتے ہیں۔

فلپائنی عہدیداروں کے مطابق یہ 40 امن فوجی اسلحے سمیت رویحانہ کیمپ سے رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہوگئے تھے۔ ان فوجیوں نے دو گھنٹے تک سرد پہاڑیوں میں سفر کیا اور اس کے بعد انہیں اقوام متحدہ کے دیگر فوجی مل گئے جنہوں نے انہیں بحفاظت محفوظ مقام تک پہنچایا۔