.

ایران نے نئے میزائل اور راڈارز تیار کر لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے زمین سے فضا میں مار کرنے والے ایک نئے میزائل اور دو راڈار سسٹمز کو متعارف کرایا ہے۔ان کے بارے میں دعویٰ کیا ہے کہ ان سے ملک کی دفاعی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

ایرانی فضائیہ کے سربراہ جنرل فرزاد اسماعیلی نے کہا ہے کہ تلاش 3 میزائل سے فورسز دشمن کے کسی بھی ہدف کو نشانہ بناسکیں گی۔انھوں نے سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میزائل کا حال ہی میں کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔تاہم انھوں نے اس کی رینج نہیں بتائی ہے۔

ایران باقاعدگی سے اپنی عسکری کامیابیوں کے اعلانات کرتا رہتا ہے اور ان کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں کی جاسکتی ہے۔ جنرل فرزاد نے اس میزائل کے علاوہ منگل کو دو راڈار سسٹمز کا افتتاح کیا ہے۔ان میں عرش 2 ایک سو پچاس کلومیٹر کے فاصلے تک چھوٹے بغیر پائِلٹ جاسوس طیاروں کا سراغ لگا سکے گا۔دوسرے راڈار سسٹم کا نام کیہان ہے اور یہ کروز میزائل اور ڈرونز کی نشان دہی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایران نے ایک اور نئے فضائی سسٹم کا افتتاح کیا ہے۔اس سے ایران کی فضائی حدود میں پرواز کرنے والے طیاروں کے بارے میں خود مختار طریقے سے معلومات حاصل ہوسکیں گی۔اس کی فضائی حدود میں حالیہ مہینوں کے دوران بین الاقوامی پروازوں کی تعداد میں دُگنا اضافہ ہوا ہے اور چوبیس گھنٹے کے دوران اوسطاً قریباً نو سو پروازیں ایران کی فضائی حدود سے گزر کر آ اور جا رہے ہیں۔

ایرانی فضائی حدود میں بین الاقوامی پروازوں کی تعداد میں اضافے کی بنیادی وجہ عراق ،شام اور یوکرین میں جاری تنازعات ہیں اور یوکرین کی فضائی حدود میں حال ہی میں ملائشیا کے ایک مسافر طیارے کی تباہی کے بعد بین الاقوامی فضائی کمپنیاں ایشیا اور مشرق وسطیٰ یا یورپی ممالک کے درمیان پروازوں کے لیے اب ایرانی حدود استعمال کررہی ہیں۔

واضح رہے کہ ایران نے 1992ء میں اپنے ہاں دفاعی صنعت کو فروغ دیا تھا۔وہ اب خود ہلکے اور بھاری ہتھیار تیار کررہا ہے۔ان میں مارٹر گولوں سے لے کر ٹینک اور سب میرینز تیار کی جارہی ہیں۔اس نے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل تیار کررکھے ہیں۔یہ دو ہزار کلومیٹر تک مار کرسکتے ہیں اور اسرائیل اور خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔