آب و ہوا، خلیجی تنازعہ: پاکستان کے آم کی برآمدات گذشتہ سال سے 30 فیصد کم ہونے کا امکان

کاشتکاروں کا موسمیاتی موافقت، تحقیق اور جدید برآمدی ڈھانچے میں سرمایہ کاری پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

کاشتکاروں اور برآمد کنندگان کا بیان ہے کہ پاکستان کو آم کی برآمد سے ہونے والی آمدنی میں اس سال تقریباً 30 فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے کیونکہ فصلوں کے موسمیاتی نقصانات اور شرقِ اوسط تنازعے کی وجہ سے برآمدات کے حجم میں کمی اور جہازرانی کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان دنیا میں آم پیدا کرنے والا ایک سرکردہ ملک ہے جو سندھڑی، چونسہ اور انور رٹول جیسی اقسام کے لیے معروف ہے۔ ملک سالانہ تقریباً 1.9 ملین میٹرک ٹن آم پیدا کرتا ہے حالانکہ صنعت کے اعداد و شمار کے مطابق عموماً چار فیصد سے بھی کم فصل برآمد کی جاتی ہے۔

برآمد کنندگان کہتے ہیں کہ پھول آنے کی اہم مدت کے دوران غیر معمولی زیادہ درجہ حرارت کے ساتھ ساتھ تیز آندھیوں سے اس سال فصل کو نقصان پہنچا ہے جبکہ اہم علاقائی منڈیوں میں تنازعات سے تجارتی امکانات مزید متأثر ہوئے ہیں۔

آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ وحید احمد نے عرب نیوز کو بتایا، "گذشتہ سال پاکستان نے تقریباً 110 ملین ڈالر مالیت کے 110,000 میٹرک ٹن آم برآمد کیے تھے۔ اس سال کے لیے ہمارا کم ہدف تقریباً 80,000 میٹرک ٹن تھا اور موجودہ صورتِ حال کے پیشِ نظر توقع ہے کہ برآمدات 75,000 اور 80,000 میٹرک ٹن کے درمیان رہیں گی جس سے تقریباً 75 سے 80 ملین ڈالر آمدنی ہو گی۔"

متوقع آمدنی گذشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد کمی کی نمائندگی کرے گی۔

احمد نے کہا کہ پاکستان کے روایتی برآمدی راستے علاقائی عدم استحکام اور سرحدی بندش سے متاثر ہوئے۔

ان کے مطابق خلیجی خطہ، ایران اور افغانستان پاکستان کی آم کی برآمدات کا تقریباً 80 فیصد حصہ ہیں۔

برآمد کنندگان بھی کافی زیادہ لاجسٹک اخراجات سے دوچار ہیں۔

احمد نے کہا، "40 فٹ کے ایک کنٹینر کے لیے [عالمی] فریٹ چارجز گذشتہ سال کی نسبت خاصے بڑھ چکے ہیں۔"

امریکہ ایران تنازعہ کے دوران تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے بعد اندرونِ ملک ترسیل کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوا ہے حالانکہ پاکستان نے حالیہ ہفتوں میں ایندھن کی قیمتوں میں کئی بار کمی کا اعلان کیا ہے۔

"غیر معمولی گرم موسم"

پاکستان کا آم کی برآمد کا سیزن یکم جون سے شروع ہو کر ستمبر تک جاری رہے گا۔ برآمد کنندگان نے کہا کہ ترسیل معمول کی نسبت تاخیر سے شروع ہوئی کیونکہ اس سال فصل پکنے میں زیادہ وقت لگا جبکہ علاقائی کشیدگی نے نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ کیا ہے۔

پاکستان فارمرز کوآرڈینیشن کمیٹی کے صدر طارق محمود چوہدری نے عرب نیوز کو بتایا، "ہم نے اس سال تقریباً 15 فیصد کم پیداوار دیکھی ہے جبکہ شدید موسمی حالات کی وجہ سے تقریباً 20 فیصد فصل ضائع ہوئی ہے۔ ملتان، رحیم یار خان، صادق آباد، میرپورخاص اور ٹنڈو اللہ یار جیسے اہم علاقوں میں موسم کی خرابی نے فصل کو کافی نقصان پہنچایا۔ کاشتکاروں کو مجموعی طور پر تقریباً 35 فیصد نقصان کا سامنا ہے۔"

چوہدری نے کہا، "پھول آنے کے لیے 30 ڈگری کے قریب درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ غیر معمولی گرم موسم نے پھلوں کو متأثر کیا اور بالآخر پیداوار میں کمی واقع ہوئی۔ موسمیاتی تبدیلی ایسی چیز نہیں ہے جس سے کسان خود ہی نمٹ سکیں۔ اس کے لیے حکومتی مداخلت اور بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے۔"

صنعت کے نمائندوں کا تخمینہ ہے کہ آم کی پیداوار میں گذشتہ پانچ سالوں میں 15-20 فیصد کمی آئی ہے اور کہتے ہیں کہ کاشتکاروں کو موسم کے بدلتے ہوئے نمونوں کے مطابق ڈھلنے، پھلوں کا معیار بہتر بنانے اور کیڑوں اور بیماریوں سے لڑنے کے لیے زیادہ تعاون کی ضرورت ہے۔

احمد نے کہا، "پاکستانی آم ایک پاکستانی برانڈ ہے۔ پنجاب اور سندھ حکومتوں کو کاشتکاروں کے لیے تحقیق پر مبنی حل نکالنے کی ضرورت ہے۔ سائنسی تعاون کے بغیر آئندہ سالوں میں پیداوار اور معیار دونوں کو برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔"

ٹریڈ دویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے ڈی جی اطہر حسین کھوکھر نے کہا، "کم حجم کے درخت پھلوں کی آسان اور مکمل تھیلا بندی اور احتیاط سے کٹائی کو آسان بناتے ہیں اور چوٹیں کم کرنے، پھلوں کی ظاہری شکل بہتر بنانے، فصل کے بعد ہونے والے نقصانات کم کرنے اور بالآخر برآمدی معیار کے آم پیدا کرنے میں بھی سہولت فراہم کرتے ہیں جو بین الاقوامی منڈی کی ضروریات پوری کریں۔"

انہوں نے سرد خانوں اور بیش قدر پروسیسنگ میں سرمایہ کاری پر زور دیا تاکہ برآمدی مسابقت بہتر اور ضیاع کم ہو سکے۔

انہوں نے کہا، "جدید اور اقتصادی طور پر قابلِ عمل آبیاری اور آم کی پروسیسنگ کے ذریعے بیش قدری سے پاکستان کو نئی منڈیوں تک رسائی، ضیاع کو کم کرنے اور تازہ پھلوں کی برآمدات کے علاوہ دیگر ذرائع سے برآمدی آمدنی بہتر کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں