.

اخوان المسلمون کی برطانیہ میں سرگرمیوں پر پابندی کی تیاری؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کے مؤقر اخبار ڈیلی ٹیلی گراف کے مطابق لندن حکومت نے اخوان المسلمون کی سرگرمیوں پر پابندی کے بارے میں غور شروع کر دیا ہے۔

جماعت پر متوقع پابندیوں کا فیصلہ اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اخوان المسلمون کے مشرق وسطیٰ میں سرگرم مسلح گروپوں کے ساتھ گہرے مراسم ہیں اور تنظیم عسکریت پسند گروپوں کے ساتھ بھرپور تعاون بھی کر رہی ہے۔

اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لندن حکومت جلد ہی اخوان کی سرگرمیوں پر پابندی لگانے پر غور کر رہی ہے۔ پابندی لگنے کے بعد بیرون ملک سے اخوان کا کوئی رہ نما برطانیہ میں داخل نہیں‌ ہو سکے گا۔

رپورٹ کے مطابق پابندیوں کے دائرے میں اخوان المسلمون کی سیاسی سرگرمیوں ‌کے ساتھ ساتھ جماعت کے زیر انتظام ادارے بھی شامل ہوں‌ گے۔ نیز اس کے بعد برطانیہ کسی اخوان رہ نما کو اپنے ہاں پناہ نہیں دے گا۔

خیال رہے کہ حال ہی میں ایک برطانوی سفارت کارنے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ اخوان المسلمون کے مشرق وسطیٰ اور بعض دوسرے ممالک میں سرگرم عسکریت پسند گروپوں کے ساتھ تعلقات قائم ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصر اور خلیجی ممالک کے دباؤ کے بعد برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون پہلے ہی اخوان المسلمون کی قیادت کی سیاسی سرگرمیوں‌پرپابندی کا عندیہ دے چکے ہیں۔ گو کہ برطانوی سفارت کار کی رپورٹ کو سرکاری سطح پر شائع نہیں کیا گیا ہے تاکہ لندن کے سیاسی اور حکومتی حلقوں میں اخوان المسلمون کے دہشت گرد گروپوں سے تعلقات کی چہ مگوئیاں جاری ہیں جن کی بنیاد پر کسی بھی وقت برطانیہ میں اخوان المسلمون پر پابندی لگ سکتی ہے۔

ادھر برطانوی وزارت خارجہ کے ایک ذریعے نے اطلاع دی ہے کہ ان کا ملک اخوان المسلمون پر پابندیاں تو نہیں لگائے گا تاہم جماعت کی حمایت میں میڈیا پروپیگنڈہ کرنے والے بعض اداروں پرپابندی لگائی جا سکتی ہے۔

خیال رہے کہ جولائی 2013ء میں مصر میں اخوان المسلمون کے حمایت یافتہ صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے خلاف فوجی بغاوت کے بعد جماعت کے بعض قائدین ملک سے فرار ہو گئے تھے۔ مصر کی فوجی جنتا کو خطرہ ہے کہ اگر برطانیہ میں اخوان المسلمون پر پابندیاں نہ لگائی گئیں تو جماعت لندن کو اپنی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا لے گی۔