.

جنرل اسمبلی میں اسرائیلی جنگی جرائم کے ذکر پرامریکا برہم

محمود عباس کی تقریر جارحانہ اور امن کے منافی ہے:امریکی محکمہ خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے "یہ تقریر جارحانہ اور امن کوششوں کو کمزور کرنے والی تھی۔"

محمود عباس کے خطاب پر امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان جین سکئی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے "اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے فلسطینی صدر کا خطاب سخت مایوس کن اور جارحانہ تھا اس لیے ہم اسے مسترد کرتے ہیں۔"

ترجمان کے مطابق "ایسے اشتعال انگیز بیانات مضمرات لیے ہوتے ہیں۔ اس نوعیت کے بیانات کا امن کے لیے کوششوں پر منفی اثر مرتب ہوتا ہے۔"

واضح رہے صدر محمود عباس نے فلسطین پر اسرائیلی قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کیا اور اسرائیل پر فلسطینیوں کے قتل عام کی جنگ کو بڑھاوا دینے کا الزام عاید کرتے ہوئے غزہ جنگ کو ایک مکروہ اور نسل کشی پر مبنی جنگ قرار دیا تھا۔

اسرائیلی وزیر خارجہ لائبرمین بھی محمود عباس پر برسے اور کہا "اس تقریر سےایک مرتبہ پھر ثابت ہو گیا ہے کہ وہ شخص ایک معقول قسم کے سفارتی معاہدے کا حصہ دار نہیں بن سکتا۔"

محمود عباس اپنے خطاب میں یہ کہتے کہتے رک گئے تھے کہ وہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کے الزام کے تحت کارروائی کے لیے اقدامات کریں گے۔

محمود عباس نے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب زور دے کر اور ناراضی کے انداز میں کیا۔ خیال رہے 8 جولائیِ سے غزہ پر مسلط کردہ اسرائیلی جنگ پچاس دن تک جاری رہی اور اس دوران 2100 سے زائد فلسطینی شہید ہو گئے تھے۔ پوری دنیا نے اسرائیل کے اس اسلوب جنگ کو جنگی جرائم پر مبنی قرار دیا۔

تاہم محمود عباس نے اپنےخطاب میں اسرائیل کے لیے کسی قسم کی ڈیڈ لائن نہِں دی ہے کہ اسرائیل کب تک فلسطینی مظلوموں پر موجود تسلط کا خاتمہ کردے۔

اس کے باوجود امریکا اور اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر کی اس تقریر کا سخت برا مانا ہے اور تقریر کو امن کے منافی قرار دیا ہے۔