''ای بولا'' کا تدارک، اوباما کا بین کی مون سے تبادلہ خیال
عالمی برادری خوفناک مرض کے خلاف ذمہ داریاں پوری کرے: اوباما
امریکی صدر براک اوباما نے مغربی افریقہ میں پھیلنے والے خوفناک مرض ای بولا کے خلاف عالمی سطح پر توانا کوششیں کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون سے سے بات چیت کی ہے۔
دونوں رہنماوں نے اس موقع پر عالمی برادری سے ای بولا متاثرین اور متاثرہ علاقوں کے لیے سرعت سے مدد اور طبی معاونت کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ وائٹ ہاوس کی طرف اس بارے میں جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے"ای بولا کے حوالے سے اس خطرناک مرحلے پر بین الاقوامی برادری کو اپنی ذمہ داری پوری کرنا چاہیے۔"
اس موقع پر صدر اوباما نے اقوام متحدہ کے رکن ملکوں پر بھی زور دیا کہ اس عالمی چیلنج سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کی مدد کریں۔ اس حوالے سے افرادی قوت، اور طبی آلات کے حوالے سے بھی کردار کیا جا سکتا ہے۔
صدر اوباما نے اس حوالے قومی سلامتی اور ہیلتھ پالیسی سے متعلق اداروں کے حکام کے ساتھ بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔ اس موقع پر ای بولا کی تشخیص اور دیگر تفصیلات پر بات کی گئی۔
اوباما کو متعلقہ اداروں نے تازہ ترین اقدامات کے بارے میں بریف کیا۔ صدر کا کہنا تھا کہ اس مہلک مرض کے بارے میں تحقییقی عمل کو تیز تر کرنے کی ضرورت ہے۔
-
لبنان میں ای بولا وائرس سے بچاؤ کےلیے اقدامات
لائبیریا ،گنی اور سیرالیون کے مسافروں کے ہوائی اڈے پر معائنے کی ہدایت
بين الاقوامى -
تین افریقی ممالک کے لیے حج اور عمرے کے ویزوں پر پابندی
سعودی عرب کا سیرالیون ،گنی اور لائبیریا میں ای بولا وائرس پھیلنے کے بعد اقدام
بين الاقوامى -
سعودی عرب میں ای بولا وائرس سے پہلی موت
حال ہی میں سیرالیون سے جدہ لوٹنے والا کاروباری شخص زندگی کی بازی ہار گیا
بين الاقوامى