یمنی القاعدہ کے لیڈروں کے سروں کی قیمت 4.5 کروڑ ڈالرز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکا نے یمن میں القاعدہ کی شاخ جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے لیڈروں کے سروں کی قیمت مقرر کردی ہے اور ان سے متعلق معلومات فراہم کرنے والوں کو ساڑھے چار کروڑ ڈالرز مالیت کا انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے مرکزی لیڈر ناصرالوحیشی کے اتا پتا سے متعلق اطلاع دینے والے کو ایک کروڑ ڈالرز انعام کے طور پر دیے جائیں گے۔بیان میں ناصرالوحیشی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ تنظیم کے اہداف کی منظوری ،نئے جنگجوؤں کی بھرتی،وسائل مہیا کرنے اور تنظیم کے جنگجوؤں کو حملوں کی ہدایات دینے کے ذمے دار ہیں۔

محکمہ خارجہ نے یمنی القاعدہ کے دوسرے مرکزی رہ نماؤں قاسم الریمی ،عثمان الغامدی ،ابراہیم حسن طلی العسیری ، شوقی علی احمد البدنی ،جلال بلیدی ،ابراہیم الربیعش اور ابراہیم البنا کی گرفتاری میں مدد دینے والوں کے لیے پچاس ،پچاس لاکھ ڈالرز مالیت کے انعامات دینے کا اعلان کیا ہے۔ان تمام پر القاعدہ کے لیے جنگجو بھرتی کرنے ،رقوم جمع کرنے اور خودکش حملوں کی سازش کا الزام ہے۔

امریکا کے قومی انسداد دہشت گردی مرکز کے مطابق جزیرہ نما عرب میں القاعدہ سنہ 2009ء میں خودساختہ امیر ناصر الوحیشی کی قیادت میں معرض وجود میں آئی تھی۔ان صاحب کو اسامہ بن لادن کے جانشین ڈاکٹر ایمن الظواہری نے 2013 القاعدہ کی عالمی تنظیم کا نائب سربراہ بنا دیا تھا۔

یمنی القاعدہ پر 2009ء میں اپنے ایک تئیس سالہ نائیجیرین رکن کو کرسمس کے روز امریکی شہر ڈیٹرائٹ جانے والے مسافر طیارے کو اڑانے کے لیے بھیجنے کا بھی الزام عاید کیا گیا تھا۔اس مشتبہ حملہ آور نے اپنے زیرجامے میں طاقتور بم چھپا رکھا تھا لیکن وہ ایمسٹرڈیم سے ڈیٹرائٹ پہنچنے والی پرواز کو دھماکے سے اڑانے سے پہلے ہی پکڑا گیا تھا۔

اس گروپ پر 2011ء میں یمن میں ایک خودکش بم حملے کی سازش کا بھی الزام عاید کیا تھا۔اس بم دھماکے میں بچوں سمیت بیالیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اس حملے کے بعد امریکا نے یمن اور بعض دوسرے ممالک میں اپنے سفارت خانے بند کردیے تھے۔

واضح رہے کہ اس وقت امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کی انتہائی مطلوب کی فہرست میں القاعدہ کے سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری کا نام سرفہرست ہے اور امریکی محکمہ خارجہ نے ان کے سرکی قیمت ڈھائی کروڑ ڈالرز مقرر کررکھی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں